لاہور(قاضی ندیم اقبال) مالی سال 2026-27ءصوبائی ترقی اور پنجاب کے عوام کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل قرار۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کی روشنی میں آئندہ مالی سال 2026-27ءکے دوران صوبائی حکومت نے انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، شہری ترقی، صاف پانی، دیہی ترقی اور ٹیکنالوجی جیسے 7 شعبوں میں میگا پراجیکٹ شروع کرنے کی پلاننگ کی ہے جس کیلئے متعلقہ اداروں کو ٹاسک سونپ دئیے گئے ہیں جبکہ اس ضمن میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور محکمہ خزانہ پنجاب کا کردار کلیدی قرار دیا جا رہا ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران انفراسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں صوبہ بھر میں سڑکوں، فلائی اوورز اور پلوں کی تعمیر و توسیع، دیہی رابطہ سڑکوں کی اپ گریڈیشن،بڑے شہروں میں ٹریفک مینجمنٹ اور شہری نقل و حمل کے منصوبے، صحت کے شعبے کے منصوبے خصوصی اہمیت کے حامل قرار دئیے جا رہے ہیں۔ پی اینڈ ڈی کے مصدقہ ذرائع نے صوبائی اسمبلی کے روبرو پیش کی گئی آئندہ مالی کی بجٹ دستاویزات کی روشنی میں بتایا کہ مالی سال 2026-27ءکیلئے پنجاب حکومت نے مجموعی طور پر تقریباً 752 ارب روپے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام مختص کیا ہے۔آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 3,560 ترقیاتی سکیمیں شامل ہیں جن میں 258 ارب روپے سے زائد نئے منصوبوں اور باقی رقم جاری منصوبوں کی تکمیل پر خرچ ہوگی۔صوبہ بھر کے مشترکہ میگا پروگرامز میں ”اپنی چھت اپنا گھر“ ہاوسنگ پروگرام،چیف منسٹر صاف پانی پروگرام کو ترجیحی طور پر مکمل کیا جائیگا، گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں ماس ٹرانزٹ منصوبے، مختلف ڈویژنز میں اسمارٹ سیف سٹی پراجیکٹس بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کئے جانے کی پلاننگ کی گئی ہے۔ چونکہ آئندہ مالی سال 2026-27ءصوبائی ترقی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آئندہ مال کے دوران پنجاب بھر کی شاہراوں کی تعمیر و مرمت کیلئے 290 ارب روپے ،محفوظ پنجاب پروگرام کیلئے 257 ارب روپے،ستھرا پنجاب پروگرام کیلئے 170 ارب روپے ،زراعت اور لائیو سٹاک کی سکیموں کیلئے 137 ارب روپے،سف سٹی پڑاجیکٹ کیلئے 47 ارب روپے ،یوتھ ڈویلپمنٹ منصوبوں کیلئے 39 ارب روپے،پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی میں سبسڈی کیلئے 37 ارب روپے سے زائد،سموگ سے نمٹنے اور فضائی آلودگی سمیت محکمہ ماحولیات کیلئے 17 ارب روپے سے زائد ، ایکوا بزنس حب کیلئے 47 ارب روپے،28 اضلاع میں کرائم سین یونٹ قائم کرنے کیلئے 14 ارب روپے کے میگا ترقیاتی پراجیکٹ بھی مکمل کئے جانے کی پلاننگ کی گئی ہے۔پلاننگ اینڈ دویلپمنٹ بورڈ کے مصدقہ ذرائع کے مطابق صحت کے شعبے میں نئے اسپتالوں، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور جدید طبی آلات کی فراہمی کے علاوہ جاری صحت کے منصوبوں کی تکمیل بھی جلد شامل ہے۔ تعلیم اور انسانی ترقی کے شعبے میں صوبہ بھر کے سکولوں اور کالجوں کی اپ گریڈیشن،جدید آئی ٹی لیبز، ڈیجیٹل کلاس رومز اور تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری،نئے تعلیمی اداروں اور ہاسٹل سہولیات کی فراہمی۔ شامل ہیں۔ صاف پانی اور سیوریج کے تحت شہری اور دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے،واٹر سپلائی اور سیوریج نیٹ ورکس کی توسیع،ماڈل ولیجز اور بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔ شہری ترقی اور ہاو¿سنگ کے شعبے میںلاہور سمیت بڑے شہروں میں اربن ڈویلپمنٹ سکیمیں،ہاو¿سنگ اور نئی آبادکاری کے منصوبے اور بالخصوص رائیو راوی اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کو جاری رکھنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔6. پارکس، ماحولیات اور گرین پنجاب کے تحت نئے پارکس اور گرین بیلٹس کی تعمیر،ماحولیاتی بہتری اور شجرکاری مہمات،شہری تفریحی مقامات کی تعمیر و بحالی، دیہی ترقی اور زراعت کے تحت زرعی انفراسٹرکچر کی بہتری،نہری نظام، واٹر کورسز اور دیہی ترقیاتی سکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق اضلاع وائز حکومتی ترجیحات کا جائزہ لیا جائے تو بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کے دوران صوبائی دارالحکومت لاہور میں شہری انفراسٹرکچر کی بہتری، فلائی اوورز اور سڑکوں کی اپ گریڈیشن،صاف پانی اور سیوریج کے بڑے منصوبے،ہاو¿سنگ اور اربن ڈویلپمنٹ اسکیموں کی توسیع، جدید میڈیکل سٹی کا قیام،سپیشلائزڈ ہسپتالوں، ریسرچ سینٹرز اور میڈیکل ایجوکیشن کی سہولیات ،کینسر کے علاج اور تحقیق کیلئے جدید ادارہ کا قیام، میوہسپتال لاہور میں نئے ہسٹوریکل بلاک اور OPD اپ گریڈیشن،جدید طبی آلات اور انفراسٹرکچر کی بہتری،لاہور چلڈرن ہسپتال میں نئی فارمیسی، پیتھالوجی اپ گریڈیشن اور طبی سہولیات میں توسیع،اہور میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کی توسیع اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری،الیکٹرک بسوں کی خریداری اور روٹس میں اضافہ کے علاوہ انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ اور شہری نقل و حمل کے منصوبے،لاہور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر و توسیع،شہری سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔راولپنڈی میں شہر میں ٹریفک اور شہری سہولیات کی بہتری کے منصوبے، راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تجویز کردہ سڑکوں اور پارکنگ انفراسٹرکچر کی ترقی کے منصوبوں کو ترجیحی طور پر دیکھا جائے گا۔فیصل آباد ڈویژن میں 9 بڑے ترقیاتی منصوبوں کی نوید سنائی دیتی ہے۔ جن میں سڑکوں، بائی پاسز، شہری خوبصورتی، پارکس اور سیف سٹی منصوبوں پر توجہ،صنعتی اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری بھی ترجیحات میں شامل ہے۔ ملتان میں شہری سڑکوں، سیوریج اور واٹر سپلائی منصوبوں کی توسیع،جنوبی پنجاب کیلئے صحت اور تعلیم کے منصوبوں میں اضافی سرمایہ کاری،ملتان ڈویژن میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت متعدد سکیموں کی منظوری۔ شامل ہے۔ اسی طرح بہالپور میں زرعی ترقی اور آبپاشی سے متعلق منصوبے،کپاس کی پیداوار بڑھانے اور زرعی ویلیو چین کو بہتر بنانے کے پروگرام،جنوبی پنجاب کے انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کے منصوبے۔ شامل ہیں، سرگودھا میںسڑکوں، پارکس، بائی پاسز اور شہری ترقیاتی اسکیموں کی منظوری،ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت مقامی ترقیاتی پیکیجز کو ترجیح دی جائیگی۔ساہیوال میںشہری و دیہی رابطہ سڑکوں کی بہتری،پانی، صفائی اور بلدیاتی خدمات کے منصوبے۔، مری میںمری ڈویلپمنٹ پروگرام (فیز-II) کیلئے خصوصی فنڈز مختص کی ےجا رہے ہیں۔جن میںسیاحت، ٹریفک مینجمنٹ اور شہری سہولیات کی بہتری شامل ہے۔
مالی سال 2026-27ءصوبائی ترقی، عوامی معاشی استحکام کیلئے اہمیت کا حامل


















