ریلویز مغلپورہ ورکشاپس و لاہور ڈویژن ، کوارٹرز کی جعلی الاٹمنٹ، کارروائی میں امتیازی سلوک

لاہور (اپنے نمائندے سے) پاکستان ریلویز مغلپورہ ورکشاپس و لاہور ڈویژن میں کوارٹرز کی مبینہ جعلی الاٹمنٹ میں جعلساز افسر و ملازمین کے خلاف کارروائی میں امتیازی سلوک عام، 16 ملازمین معطل جبکہ ایک درجن سے زائد بڑے افسران کو احتساب کٹہرے میں نہ لانے کا انکشاف، متعدد مراحل کے باوجود مبینہ جعلسازی، نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات احتساب صرف ماتحت عملے تک محدود۔ پاکستان ریلویز میں ماضٰ قریب میں مغلپورہ ورکشاپس اور لاہور ڈویژن میں افسران و ملازمین کی ملی بھگت سے 500سے زائد سرکاری رہائشی کوارٹرز کی مبینہ بوگس اور جعلی الاٹمنٹ کے سکینڈل میں شعبہ ویجی لنس کی جانب سے ابتدائی کارروائی عمل میں لائی گئی جس میں الزامات ثابت ہونے پر متعدد افسران و ملازمین کے خلاف سخت کارروائی اور مقدمات درج بھی کئے گئے اسکے بعد اس معاملہ کی مزید انکوائری کی وزیر ریلویز کی جانب سے احکامات جاری کئے گئے جس پر جعلسازی کرنے والے افسران و ملازمین کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس پر بوگس الاٹمنٹ کے حامل کواٹرز تاحال خالی نہ کروائے گئے اور انکوائری کو التوا میں ڈالے رکھا جس پر گزشتہ ایام میں منسٹر کی ہدایات پر کارروائی کا آغاز کیا گیا جس میں ابتدائی طور پر عام16 ملازمین کو معطل کیا گیا جبکہ اثر وسوخ کے حامل افسران و ملازمین کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکی جس سے محکمے کے انتظامی نظام، افسران کی نگرانی اور احتساب کے طریقہ کار پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹر لاہور کی جانب سے 10 اکتوبر 2026 کو کی گئی اس کارروائی کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر سرکاری رہائشی املاک کی مبینہ جعلی الاٹمنٹ ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری صرف ماتحت ملازمین پر عائد ہوتی ہے یا منظوری اور تصدیق کرنے والے افسران بھی جواب دہ ہیںذرائع کے مطابق رہائشی کوارٹرز کی الاٹمنٹ محض کسی کلرک یا نائب قاصد کا کام نہیں بلکہ ایک طویل انتظامی عمل ہے درخواست کی وصولی، فیلڈ ویری فکیشن، سٹیٹ انسپکٹر کی رپورٹ، متعلقہ انجینئرنگ اور پراپرٹی برانچ کی جانچ پڑتال اور ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آفس سے حتمی تصدیق جیسے مراحل کی موجودگی میں مبینہ جعلسازی کا سامنے آنا پورے نگرانی کے نظام پر سوالیہ نشان ہے مبینہ جعلسازی سے فائدہ کس کو پہنچا، الاٹمنٹ کی منظوری کس سطح پر دی گئی، تصدیقی ریکارڈ پر کس کے دستخط ہیں اور متعلقہ افسران نے اپنی قانونی ذمہ داری کس حد تک پوری کیاس سلسلے میں جن افسران و اہلکاروں کے کردار کی ریکارڈ کی روشنی میں جانچ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ان میں ڈی ڈی پراپرٹی لینڈ واصف اکرام، ڈی ای این ورکشاپ توصیف ظفر، سابق اے ای این چوہدری تنویر، اے ڈبلیو ایم فاروق ناصر، ڈپٹی ڈی ایس عاصم تسنیم کھوکھر، ڈی ای ای عامر یعقوب، کیرج شاپ کوارٹر کلرک عمران، سابق اسٹیٹ انسپکٹرز سعد، بلال احمد اور انیس احمد، سٹیٹ انسپکٹر لاہور ڈویژن زبیر، اسٹیٹ انسپکٹر ہیڈکوارٹر حسیب، سابق ڈبلیو ایم کیرج محمد اسماعیل اور محمد ادریس، ڈی ای این ٹو غلام مرتضیٰ، اے آئی او ڈبلیو ٹو غلام مصطفیٰ، معاون کاشف، ڈی ایس لاہور کے پی اے اعجاز، ڈی جی ایم ہیڈکوارٹرز سے وابستہ نائب قاصد عثمان اور ہیڈ کلرک ویجی لنس فیصل کریم سمیت دیگر متعلقہ افراد کے شامل ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داری، دستخط شدہ دستاویزات اور ممکنہ غفلت کا الگ الگ تعین کیا جائے۔ویجی لنس رپورٹ پر تحفظات، شفاف تحقیقات ناگزیرذرائع نے ویجی لنس برانچ کی ابتدائی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ بعض بااثر عہدوں کے کردار کا مکمل جائزہ نہیں لیا گیا اگر یہ تحفظات درست ہیں تو معاملہ صرف جعلی الاٹمنٹ تک محدود نہیں رہتا بلکہ تحقیقات کے معیار اور غیرجانبداری پر بھی سوال اٹھتا ہے پاکستان ریلوے میں سرکاری رہائشی کوارٹرز کوئی نجی ملکیت نہیں بلکہ عوامی اثاثہ ہیں ان کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگی کی صورت میں صرف نچلی سطح کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے اصل حقائق سامنے نہیں آ سکتے ریلوے ملازمین نے وزیر ریلوے، چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات، الاٹمنٹ ریکارڈ کا مکمل فرانزک آڈٹ اور ویجیلنس رپورٹ کے تمام نکات کی دوبارہ جانچ کرائی جائے تاکہ کسی ماتحت ملازم کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے اور جس کے خلاف بھی ٹھوس شواہد ملیں اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ ریلویز حکام کا کہنا ہے کہ بوگس الاٹمنٹ پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس میں ذمہ دران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے متعدد ملازمین کو معطلی کے بعد شو کاز بھی جاری کئے گئے ہیں مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔