نیویارک (مشرق نیوز) محققین کا کہنا ہے کہ اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے الزائمر کی بیماری کی پیشگوئی تقریباً 93 فیصد درستگی کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔ امریکی ریاست میساچوسٹس میں قائم ورسسٹر پولی ٹیکنک انسٹیٹیوٹ کے مطابق 800 سے زائد دماغی سکینز کے تجزیے نے اے آئی کو یہ صلاحیت دی کہ وہ دماغ میں ہونے والی ساختی تبدیلیوں کو پہچان سکے، جو ڈیمنشیا کی سب سے عام قسم یعنی الزائمر کے آغاز کا اشارہ دیتی ہیں۔
یہ نتائج کئی برسوں کی اس تحقیق کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اے آئی نہ صرف الزائمر کے ابتدائی خطرات کی نشاندہی کر سکتی ہے بلکہ بیماری کے امکان کی پیشگوئی کرنے اور ایسے مریضوں کی شناخت میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے جن میں الزائمر موجود ہو مگر تشخیص نہ ہوئی ہو۔
ماہرین کے مطابق اگر اے آئی کی مدد سے الزائمر کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص ممکن ہو جائے تو مریضوں اور ڈاکٹروں کو قیمتی وقت مل سکتا ہے تاکہ وہ بیماری کیلئے بہتر تیاری کر سکیں اور ممکنہ طور پر اس کی رفتار کو سست بھی کیا جاسکے۔ ادارے کے اسسٹنٹ ریسرچ پروفیسر بنجامن نیفیو نے ایک بیان میں کہا کہ الزائمر کی بیماری کی ابتدائی تشخیص مشکل ہوتی ہے کیونکہ اس کی علامات اکثر عام بڑھاپے کی علامات سمجھ لی جاتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے الزائمر کی قبل از وقت تشخیص میں اہم پیشرفت


















