لاہور (قمر عباس نقوی) پاکستان ریلوے مغلپورہ ورکشاپ ڈویژن کی ڈی پی او کی نااہلی، 300 سے زائد درجہ چہارم کی مختلف نوعیت کیلئے 2سالہ کنٹریکٹ بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف۔ پاکستان ریلوے ورکشاپ ڈویژن میں دو سالہ کنٹریکٹ پر درجہ چہارم کی بھرتیوں کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مالی لین دین کے الزامات سامنے آنے کے بعد معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیاہے۔ ذرائع کے مطابق بھرتیوں میں میرٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے مبینہ طور پر بھاری رقوم کے عوض امیدواروں کو ملازمتیں فراہم کئے جانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جس پر امیدواروں اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھرتیوں سے متعلق کیسوں کو مبینہ طور پر ڈیٹا انٹری آپریٹر خدمات انجام دے رہا ہے جس کے ذریعے چلایا اور پراسیس کیا جا رہا ہے، جس سے پورے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اسی طرح ڈپٹی ڈی ایس ورکشاپ کی سرپرستی میں خاتون ڈی پی او کے متعلق بھی مختلف شکایات سامنے آئی ہیں ان پر الزامات کی نوعیت انتہائی سنجیدہ ہے جس کے باعث متعلقہ حلقوں میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ریلویز میں درجہ چہارم کی بھرتیوں کیلئے ناکافی درخواست ہونے کے باعث تاریخ میں اضافہ کر دیا گیا ہے ذرائع کا کہنا تھا سفارشی افراد کو ہیڈ کواٹرز کے افسران کی سفارش پر میرٹ سے ہٹ کر شامل کرنے کا انکشاف بھی کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے عوامی حلقوں نے وفاقی وزیر ریلوے، چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اگر کسی قسم کی بدعنوانی یا بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ریلویز حکام کا کہنا ہے کہ بھرتی کا عمل میرٹ اور شفافیت پر مبنی رکھا جائیگا۔ ابھی امیدواروں سے درخوستیں لینے کا عمل جاری ہے جو کہ20مئی کی آخری تاریخ تک رہیگا، خاتون ڈی پی او سے موقف لینے کی خاطر رابطہ کیا گیا انہوں نے موقف نہ دیا۔
ریلوے مغلپورہ ورکشاپ ڈویژن ، درجہ چہارم کی 300 سے زائد بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کا انکشاف



















