جیل کا بنیادی مقصد قیدیوں کی اصلاح و تربیت، ذمہ دار شہری بنانا ہے :محسن رفیق چوہدری

لاہور (مرزا ندیم بیگ/عکاسی: میاں شاہنواز) ڈی آئی جی جیل خانہ جات لاہور ریجن محسن رفیق چوہدری نے کہا ہے کہ جیل کا بنیادی مقصد صرف قیدیوں کو تحویل میں رکھنا نہیں بلکہ قانون کے مطابق ان کی حفاظت، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اصلاح و تربیت اور معاشرے کا ذمہ دار شہری بنانے کیلئے ماحول فراہم کرنا بھی ہے، جبکہ جیل ملازمین کی فلاح، ان کے مسائل کا بروقت ازالہ، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ تربیت بھی محکمہ جیل خانہ جات کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ لاہور ریجن کی نگرانی کے دوران جیلوں کے انتظامی، سکیورٹی، طبی، صفائی، خوراک، ملاقات اور قیدیوں کی فلاح سے متعلق امور کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔محسن رفیق چوہدری کو ستمبر 2025 میں ڈی آئی جی جیل لاہور ریجن تعینات کیا گیا۔ اس سے قبل وہ ڈی آئی جی جیل ملتان ریجن کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ پنجاب حکومت نے جنوری 2025 میں انہیں گریڈ 20 میں ریگولر ترقی بھی دی تھی۔ اس سے قبل وہ بہاولپور ریجن میں بھی ڈی آئی جی جیل کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ پنجاب جیل خانہ جات کے موجودہ سرکاری ریکارڈ میں بھی وہ ڈی آئی جی لاہور ریجن کے طور پر درج ہیں، لاہور ریجن کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد آپ کی اوّلین ترجیحات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ریجن ایک بڑے اور اہم جیل انتظامی خطے کی نگرانی کرتا ہے، اس لئے ہماری کوشش ہے کہ جیلوں میں سکیورٹی کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو دستیاب بنیادی سہولیات کا معیار بھی بہتر رکھا جائے۔ قیدیوں کی صحت، خوراک، صفائی، ملاقات کے نظام، تعلیم، مذہبی و اصلاحی سرگرمیوں اور کھیلوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اسی طرح افسران اور اہلکاروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے فرائض قانون، قواعد اور انسانی احترام کے تقاضوں کے مطابق انجام دیں،ڈی آئی جی لاہور ریجن نے مختلف جیلوں کے دوروں کے دوران کن امور کا خصوصی جائزہ لیا اس بارے کہا کہ جیلوں کے دوروں کا مقصد صرف رسمی معائنہ نہیں بلکہ زمینی صورتحال کا براہ راست جائزہ لینا ہے۔ بیرکس، ہسپتال، کچن، ملاقات کے مقامات، خواتین اور نوعمر قیدیوں کے وارڈز، لائبریری، کھیلوں کی سہولیات، صفائی اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ماضی میں ڈی آئی جی ملتان ریجن کی حیثیت سے بھی مختلف جیلوں کے اچانک دورے کئے اور سہولیات کا معائنہ کیا گیا۔ اگست 2025 میں سب جیل شجاع آباد کا اچانک دورہ بھی سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے،قیدیوں کی اصلاح اور تعلیم کے حوالے سے کہنا تھا کہ قیدیوں کی اصلاح جیل انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ تعلیم، مطالعہ، کھیل اور مثبت سرگرمیاں قیدیوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ملتان ریجن میں خدمات کے دوران ملتان جیل کی لائبریری کے حوالے سے بھی قیدیوں میں مطالعے کے رجحان کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ اس لائبریری میں ابتدائی طور پر دو ہزار سے زائد کتابیں دستیاب کی گئی تھیں اور اسے قیدیوں اور جیل ملازمین دونوں کے لئے مفید قرار دیا گیا تھا،خواتین اور نوعمر قیدیوں کے حوالے سے کیا اقدامات کئے جاتے رہیں ہیں اس بارے ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ خواتین اور نوعمر قیدیوں کی ضروریات عام قیدیوں سے مختلف ہوتی ہیں، اس لئے ان کے وارڈز، طبی سہولیات، صفائی، خوراک اور دیگر ضروریات کی الگ سے نگرانی ضروری ہے۔ ماضی میں سنٹرل جیل ڈیرہ غازی خان کے دورے کے دوران خواتین اسیران، نوعمر وارڈز اور مختلف بیرکس میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔ کھیلوں، لائبریری اور کتابوں کے اجرا سمیت اصلاحی سرگرمیوں کا معائنہ بھی کیا گیا،قیدیوں کی صحت کے بارے میں کیا حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے اس بارے میں بتایا کہ جیل میں قیدیوں کو بروقت طبی سہولت کی فراہمی انتہائی اہم ہے۔ جیل ہسپتال، ادویات، ڈاکٹرز، طبی عملہ اور ضرورت پڑنے پر بیرونی ہسپتالوں میں منتقلی کے نظام کی نگرانی کی جاتی ہے۔ لاہور ریجن کی جیلوں میں طبی سہولیات کے حوالے سے بھی متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق سنٹرل جیل لاہور میں بنیادی طبی سہولیات، تشخیصی ٹیسٹ، ادویات، ویکسینیشن اور ایمرجنسی منتقلی سمیت متعدد طبی سہولیات موجود ہیں۔قیدیوں کو روزمرہ ضروری اشیا کی فراہمی کے حوالے سے بتایا کہ قیدیوں کو ضروری اشیا مناسب نرخوں پر دستیاب ہونا بھی فلاحی نظام کا اہم حصہ ہے۔ مارچ 2026 میں سنٹرل جیل لاہور میں Prison Welfare Store قائم کیا گیا جہاں روزمرہ استعمال کی 74 اشیا رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا۔ خریداری کے عمل میں شفافیت کے لئے سی سی ٹی وی، بائیومیٹرک تصدیق اور آن لائن نظام رکھنے کی ہدایات بھی دی گئیں جبکہ اشیا کو مارکیٹ ریٹ سے زائد پر فروخت نہ کرنے اور خوراک کے نمونے معیار کی جانچ کے لئے متعلقہ ادارے کو بھجوانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ اس موقع پر ڈی آئی جی محسن رفیق چوہدری بھی موجود تھے،جیل ملازمین کی فلاح و بہبود کے لئے کہنا تھا کہ جیل کا پورا نظام افسران اور اہلکاروں کی محنت سے چلتا ہے، اس لئے ملازمین کے مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فرائض میں غفلت یا غیرحاضری پر محکمانہ کارروائی اپنی جگہ ضروری ہے، تاہم جہاں قواعد کے مطابق کسی ملازم کو ریلیف دیا جا سکتا ہو وہاں معاملہ قانون اور میرٹ کے مطابق دیکھا جانا چاہئے،فروری 2024 میں ملتان و ڈی جی خان ریجن کے 17 جیل ملازمین کی سروس اپیلوں کی سماعت کے دوران محسن رفیق چوہدری نے 9 اہلکاروں کی اپیلیں منظور کیں جبکہ 8 اپیلیں مسترد کیں۔ یہ کارروائی اس بات کی مثال ہے کہ محکمانہ معاملات میں قواعد کے مطابق کیس ٹو کیس بنیاد پر فیصلہ کیا گیا،جیلوں میں نظم و ضبط اور جوابدہی کے حوالے سے کیا پالیسی ہے اس بارے ڈی آئی جی لاہور ریجن کا کہنا تھا کہ نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ افسر یا اہلکار اگر فرائض میں غفلت کرے تو قواعد کے تحت کارروائی ہونی چاہئے، اسی طرح کسی اہلکار کے خلاف کارروائی ہو تو اسے اپیل اور اپنا مو¿قف پیش کرنے کا قانونی حق بھی حاصل ہے۔ مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ محکمہ میں ذمہ داری، شفافیت اور پیشہ ورانہ طرز عمل کو فروغ دینا ہے، لاہور ریجن میں نئی بیرکس اور قیدیوں کی گنجائش کے مسئلے کو کس طرح دیکھا جا رہا ہے اس بارے بتایا کہ گنجائش اور رہائشی سہولیات جیل انتظامیہ کے اہم انتظامی معاملات ہیں۔ نومبر 2025 میں کوٹ لکھپت جیل لاہور میں پانچ نئی ڈبل اسٹوری بیرکس مکمل کی گئیں جن میں تقریباً دو ہزار قیدیوں کی گنجائش بتائی گئی۔ اس منصوبے سے رہائشی گنجائش بڑھانے اور قیدیوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے میں مدد ملنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی، جدید جیل کا تصور کیا ہے اس بارے کہنا تھا کہ جدید جیل وہ ہے جہاں سکیورٹی مضبوط ہو، لیکن ساتھ ہی قیدی کو بنیادی انسانی سہولیات، علاج، تعلیم، ہنر اور اصلاح کا موقع بھی ملے۔ قیدی سزا مکمل کرنے کے بعد معاشرے میں واپس جاتا ہے، اس لئے جیل کے اندر اس کی اصلاح اور مثبت تربیت مستقبل میں معاشرے کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کا استعمال، ریکارڈ کی بہتر نگرانی اور شفاف انتظامی نظام جیلوں کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیںجیلوں کے دوروں کے دوران افسران کو عمومی طور پر کیا ہدایات دی جاتی ہیںکہ صفائی، خوراک، طبی سہولیات، سکیورٹی، ملاقات کے نظام، قیدیوں کے ساتھ رویے اور جیل قواعد پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایات دی جاتی ہیں۔ کسی مسئلے کی نشاندہی ہو تو اس کے حل کے لئے متعلقہ افسر کو ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ اچانک دوروں کا مقصد بھی یہی ہے کہ کاغذی رپورٹ کے بجائے زمینی صورتحال سامنے آئے،ڈی آئی جی جیل خانہ جات لاہور ریجن کا مزید کہنا تھا کہ جیل خانہ جات ایک حساس محکمہ ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ سکیورٹی، نظم و ضبط اور فلاحی اقدامات میں توازن برقرار رکھا جائے۔ قیدی قانون کے مطابق اپنی سزا بھگت رہے ہیں، اس لئے ان کے بنیادی حقوق اور ضروری سہولیات کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے، جبکہ جیل ملازمین کو بھی محفوظ اور بہتر کام کا ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ ہمارا مقصد جیلوں میں ایسا انتظامی اور اصلاحی ماحول قائم رکھنا ہے جس میں قانون کی بالادستی، انسانی وقار اور محکمانہ نظم تینوں برقرار رہیں۔