اسلام آباد: (بیورورپورٹ)سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی فیصلے کیخلاف حکومتی درخواست اعتراض لگاکر واپس کردی،ذرائع کے مطابق رجسٹرار آفس کی جانب سے نظر ثانی درخواست کےساتھ پیپربکس مکمل نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا گیا۔
دوسری جانب مشیر وزیراعظم رانا ثنا نے کہاعمران خان کوہسپتال منتقل کرنے کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں ،حکومت آئین و قانون کی پابند ،نظرثانی اپیل دوبارہ دائر کردی ،اپیل کا فیصلہ آنے دیں، چیزیں واضح ہو جائیں گی،سپریم کورٹ کاعمران خان کو دیاگیا ریلیف قانون کے مطابق نہیں،حکومت کلیئر ہے سپریم کورٹ کے فیصلے سے کرمنل جسٹس سسٹم متاثر ہوگا، سوال ہے سپریم کورٹ کا فیصلہ ماتحت عدالتوں پر بائنڈنگ ہوتا ہے، کیافیصلے کے بعد پھر ہر قیدی کو پرائیویٹ ہسپتال منتقل کیا جائے گا؟ اس طرح تو پھر ماتحت عدالتوں کے پاس کوئی عذر ہی نہیں رہےگا۔
رانا ثنا نے کہانوازشریف جیل سے سرکاری سروسز ہسپتال گئے ،ڈاکٹروں کے میڈیکل بورڈ نے تجویز کیا علاج بیرون ملک ہونا چاہیے، میڈیکل بورڈ کی تجویز پر نوازشریف کا علاج بیرون ملک ہوا اور حکومت نے اجازت دی۔
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہاحکومت عدالتی حکم کی پابند ،عمران خان کا علاج سرکاری ہسپتال میں نہ ہو ا تو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیاجائےگا،ضرورت پڑی تو بیرون ملک بھی بھیجا جاسکتاہے، واضح کیا جائے نجی ہسپتال منتقلی کی سہولت سب قیدیوں کےلئے ہے یا نہیں،سپریم کورٹ سے رجوع صرف اس لیے کیا وضاحت مل جائے فیصلہ صرف ایک قیدی یا ملک کے تمام دیگر قیدیوں کیلئے بھی ہے۔
عمران کی ہسپتال منتقلی فیصلے کیخلاف حکومتی درخواست واپس،دوبارہ دائر



















