برلن (مشرق نیوز) جرمنی کے سابق کپتان، فٹ بال لیجنڈ اور ورلڈ کپ فاتح فلپ لاہم نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو اور عالمی فٹ بال کے انتظامی ادارے پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ فٹ بال میں شائقین اور کھلاڑیوں کے مفادات کے بجائے منافع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
ایک اخباری کالم میں فلپ لاہم نے بڑھتی ہوئی ٹکٹ قیمتوں، ٹورنامنٹس کے پھیلاو اور کھیل کے بڑھتے ہوئے تجارتی رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”ورلڈ کپ فروخت کر دیا گیا ہے“ جس کے بعد فٹ بال حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
فلپ لاہم کے مطابق آمدنی بڑھانے کی دوڑ فٹ بال کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے اور شائقین میں مایوسی پیدا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے مداح اب کھیل کی اصل روح اور فیفا کے تجارتی فیصلوں میں فرق کرنا مشکل محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر فیفا کلب ورلڈ کپ کی توسیع کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں ٹیموں کی تعداد 7 سے بڑھا کر 32 کر دی گئی ہے۔ لاہم کا موقف ہے کہ اس فیصلے سے کھلاڑیوں پر اضافی دباو پڑے گا، جو پہلے ہی مصروف شیڈول اور طویل سفری مصروفیات کا سامنا کر رہے ہیں۔ فلپ لاہم نے خبردار کیا کہ میچز کی بڑھتی ہوئی تعداد کھلاڑیوں کی فٹنس اور کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ طویل مدت میں جسمانی اور ذہنی تھکن کے خطرات بھی بڑھ جائیں گے۔
فٹ بال لیجنڈ نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی قیمتوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ طلب اور قیمتوں کے تعین کے حوالے سے شفافیت ضروری ہے اور فٹ بال حکام کو اس معاملے پر زیادہ وضاحت فراہم کرنی چاہیے۔
تاہم اپنی تنقید کے باوجود فلپ لاہم نے فیفا کے ورلڈ کپ کو 48 ٹیموں تک توسیع دینے کے فیصلے کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے فارمیٹ نے ابھرتی ہوئی فٹ بال قوموں، جیسے کیوراساو، کیپ وردے، اسکاٹ لینڈ اور جمہوریہ کانگو کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے اور متاثر کن کہانیاں رقم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
ورلڈ کپ فروخت کر دیا گیا ہے، سابق جرمن فٹ بالر



















