جنگ دوبارہ بھڑکنے کاخطرہ ٹل گیا، تابڑ توڑ حملوں کے بعد ایران،اسرائیل میں سیز فائر

تہران،تل ابیب:(مشرق نیوز)خطے میں جنگ دوبارہ بھڑکنے کاخطرہ ٹل گیا،تابڑ توڑ حملوں کے بعد ایران،اسرائیل میں سیز فائر،دونوں نے ایک دوسرے کیخلاف کارروائیاں روک دیں۔

ایرانی حملوں کے جواب میں اسرائیل نے تہران، تبریز اور اصفہان میں میزائل داغے،شہر دھماکوں سے گونج اٹھے،حملے امریکہ کی جانب سے تحمل کی اپیلوں کے باوجود کیے گئے۔

پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے 2اہم فضائی اڈوں، نیواتیم اور تل نوف کو نشانہ بنایا۔

بعدازاں ایرانی مسلح افواج نے اعلان کیا جنوبی لبنان ،بیروت کے علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں کی جانے والی فوجی کارروائیاں روک دیں،جنوبی لبنان ،ضاحیہ میں جارحیت و مظالم کے ردعمل میں مسلح افواج نے لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت میں اسرائیل کو سخت ،دردناک جواب دیا،صہیونی حکومت ،حامیوں کو سبق سیکھنا چاہیے،موجودہ آپریشن روکدیا اگر جارحیت و مظالم کا سلسلہ جاری رہا تو کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔

نیشنل سکیورٹی اینڈ فارن پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کسی بھی قسم کی مس کیلکولیشن کا شکار نہیں ہوناچاہیے، امن و استحکام کا راستہ داخلی محاذ کی مضبوطی اور جدوجہد سے ہو کر گزرتا ہے،آپ دشمن کو فیصلہ کن جواب دینے کےلئے خود کو تیار نہیں کرتے تو جنگ آپ کے دروازے پر دستک دے گی، جنگ بندی کے بعد ایرانی افواج نے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ، نقصانات کا ازالہ کرلیا، 9مارچ کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور جواب دینے کےلئے تیار ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا امریکہ حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا براہ راست ذمہ دار ہے، واشنگٹن اسرائیل کی پشت پناہی بند کرے،افسوس پڑوسی ممالک نے اپنی سرزمین استعمال کرنے دی،اسرائیل 3سال سے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے، افسوس ہے نسل کشی کےخلاف پڑوسی ملک مصر نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

اسماعیل بقائی نے کہا اسرائیلی اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا،لبنان جنگ بندی معاہدے کا لازمی حصہ تمام محاذوں پر جنگ بندی پر عملدرآمد چاہتے ہےں، ایرانی افواج نے سعودی عرب پر کوئی حملہ نہیں کیا، پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکہ کےساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ایران نے محاذ چھوڑا نہ ہی مذاکرات کا راستہ ترک کیا ،قوم کے حقوق کا بھرپور دفاع کیاجائےگا،کسی خطرے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،ترجیح ایران کی سلامتی اور اپنے لوگوں کا امن ہے، سفارت کاری ،دفاع قومی طاقت کے دو بازو ہیں، اتحاد و دانشمندی سے ایران آزمائش سے کامیاب ہوکر نکلے گا۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ،برطانیہ، ترکیہ، قطری ،فرانسیسی ہم منصبوں سے رابطہ کرکے خطے کی موجودہ صورتحال و بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال اور لبنان کے محاذ پر اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

دوسری جانب اسرائیلی عہدیدار نے کہا امریکی صدر ٹرمپ کی درخواست پر اسرائیل نے ایران پر حملے روک دئیے ،حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے جاری رکھے تو اسرائیل بیروت پرحملے کرےگا، جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے پوری شدت سے جاری رہیں گے۔