سال 2026 میں درجنوں ٹرین حادثات، اصلاحات کے وعدے زبانی جمع تفریق

لاہور (اپنے نمائندے سے)2026 پاکستان ریلوے کیلئے حادثات کا سال رہا۔ ابتدائی مہینوں میں ہی 24سے زائد ٹرین حادثات میں بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ریلویز انتظامیہ کی طرف سے حادثات کی روک تھام کیلئے انکوائری کمیٹیوں تک محدود، اصلاحات کے وعدے زبانی جمع تفریق جبکہ عملی تبدیلی ہوتے نظر نہیں آرہے۔پاکستان ریلویز انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کو محفوظ سفر کی فراہمی کو عملی طور پر یقینی بنانے کی خاطر منصوبہ بندی کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے بڑے یا چھوٹے حادثہ اور دہشت گردی جیسے واقعات کے بعد جانی و مالی نقصان کے بعد انتظامیہ کی جانب سے فوری کمیٹیاں قائم کر دی گئی اور سات یوم میں حادثہ کے ذمہ دار کے تعین کے احکامات دیکھنے میں آئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر حادثے کے بعد وہی روایتی بیانات، انکوائری کمیٹیاں اور اصلاحات کے وعدے سننے کو ملتے ہیں، جبکہ عملی تبدیلی نظر نہیں آتی خستہ حال پٹریاں، فرسودہ نظام اور ناقص نگرانی انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتی رہے گی پاکستان میں 2026 کے دوران ٹرین حادثات کی درست مجموعی تعداد 20سے 30کے درمیان ہے۔ ان میں پٹری سے اترنے ، مال گاڑی اور مسافر ٹرین کے تصادم اور دیگر آپریشنل حادثات شامل تھے۔ اس حوالے سے فروری میں پڈعیدن سندھ میں اسی ماہ ہڑپہ ساہیوال راولپنڈی ،خان پور اور مارچ 2026 میں شالیمار ایکسپریس سندھ کے نوشہروفیروز ضلع میں ایک مال گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں کم از کم 1 شخص جاں بحق اور 13 زخمی ہوئے اپریل 2026میں شاہداد پور اور مئی 2026 میں کوئٹہ کے قریب ایک ٹرین پر خودکش حملے میں 20 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے گزشتہ کئی برسوں سے ریلوے کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے دعوے کئے جا رہے ہیں مگر حادثات کی تعداد کم ہونے کے بجائے مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اگر اربوں روپے کے منصوبوں کے باوجود ٹریک، سگنلنگ سسٹم اور آپریشنل نگرانی میں مطلوبہ بہتری نہیں آ سکی تو پھر ان منصوبوں کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے اکثر حادثات کے بعد ذمہ داری کا تعین عوام کے سامنے نہیں آتا۔ انکوائری رپورٹس تیار ہوتی ہیں لیکن ان کی تفصیلات شاذ و نادر ہی منظر عام پر آتی ہیں۔ نتیجتاً نہ احتساب ہوتا ہے اور نہ ہی ایسا نظام تشکیل پاتا ہے جو مستقبل میں حادثات کو روک سکے ریلوے کسی بھی ملک کی معیشت اور عوامی نقل و حمل کا اہم ستون ہوتی ہے۔ پاکستان میں لاکھوں شہری روزانہ اس سروس پر انحصار کرتے ہیں ایسے میں بار بار ہونے والے حادثات صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے بحران کی علامت بھی ہیں حکومت اور ریلوے انتظامیہ محض بیانات اور وقتی اقدامات پر اکتفا کرنے کے بجائے جامع اصلاحات نافذ کریں، حفاظتی معیارات کو عالمی سطح کے مطابق بنائیں اور ہر حادثے کے ذمہ داروں کا شفاف احتساب یقینی بنائیں۔ بصورت دیگر ہر نیا حادثہ ایک بار پھر یہی سوال دہرائے گا کیا پاکستان ریلوے واقعی محفوظ سفر فراہم کرنے کے قابل ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے۔ حادثات کی روک تھام کی خاطر ٹریک کی اپ گریڈیشن سگنلنگ سسٹم کی بہتری، عملہ کی تربیت اور حساس مقامات کی نگرانی جیسے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔