شرح سود برقرار رکھنا قومی معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گا: تاجر برادری

لاہور (کامرس رپورٹر)سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شر ح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان انجمن تاجران کے سینئر رہنما وقار احمد مےاں، میاں سلیم ،عمر قرےشی،سینئر تاجررہنما، فاران سعےد بٹ ،احسان اللہ بھٹی ،راجہ حسن اختر، قومی تاجر اتحاد کے رہنماوں سید ممتاز حسین بخاری سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شر ح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو ”ناقابل فہم“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کاروباری ماحول، سرمایہ کاری اور مجموعی قومی معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گاکہ موجودہ معاشی حقائق، خصوصاً مہنگائی میں نمایاں کمی، شرح سود میں فوری کمی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق مہنگائی کی شرح صرف 6 فیصد تک آ گئی ہے تو پالیسی ریٹ کو کم کر کے اصولی طور پر 6 سے 7 فیصد کے درمیان لایا جانا چاہیے تھا؛ تاکہ معیشت کو سہارا مل سکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر شرح سود میں کمی کی جاتی تو حکومت کا قرضوں کا بوجھ تقریباً 3,500 ارب روپے تک کم ہو سکتا تھا جوکہ، مالیاتی دباو¿ میں کمی کیلئے نہایت اہم ہے شرح سود پیداواری لاگت کو بڑھاتی ہے جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ سنگل ڈیجٹ شرح سود کے ذریعے اشیاءسستی ہوں گی، عوام کو ریلیف ملے گا اور معیشت میں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ بلند شرح سود کرنسی کی گردش کو بھی محدود کرتی ہے؛ جس سے معاشی سرگرمیوں میں جمود پیدا ہوتا ہے شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنا بزنس کانفیڈنس کو بری طرح متاثر کرے گا؛ سرمایہ کاری میں کمی لائے گا اور معیشت کی بحالی کی رفتار کو سست کر دے گا۔انہوں نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور ایسی پالیسی اپنائے جوکاروبار دوست ہو؛قرضوں کی لاگت کو کم کرے، صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دے اور روزگار کے مواقع پیدا کرے۔