متعدد تنظیمی و سیاسی تبدیلیوں کے باوجود پی ٹی آئی بدستور بڑی جماعتوں میں شامل

لاہور (نوید چودھری) پاکستان تحریک انصاف گزشتہ دو برسوں کے دوران اپنی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے داخلی بحران سے گزری ہے۔ 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد شروع ہونے والی سیاسی اور قانونی صورتحال نے نہ صرف پارٹی کی مرکزی قیادت کو متاثر کیا بلکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان، سابق وزرائ، ٹکٹ ہولڈرز اور تنظیمی عہدیداروں کی ایک بڑی تعداد بھی پارٹی سے دور ہوتی چلی گئی۔ دستیاب سیاسی ریکارڈ، میڈیا رپورٹس اور عوامی بیانات کے مطابق اس عرصے کے دوران کم از کم 11 سابق یا موجودہ ارکان قومی اسمبلی، درجنوں صوبائی اسمبلی اراکین اور تقریباً 60 سے زائد سابق ٹکٹ ہولڈرز اور اہم سیاسی شخصیات یا تو پارٹی سے الگ ہو گئیں، غیر فعال ہو گئیں، دوسری جماعتوں میں شامل ہو گئیں یا انہوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد ملک بھر میں مقدمات کے اندراج اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو پاکستان تحریک انصاف کے متعدد مرکزی رہنماوں نے پریس کانفرنسوں کے ذریعے پارٹی سے لاتعلقی یا سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا۔ ان میں فواد چوہدری، عثمان ڈار، فیاض الحسن چوہان، عامر کیانی، محمود مولوی، ملک امین اسلم، ہشام انعام اللہ خان، عثمان خان ترکئی، دوست محمد مزاری، آفتاب صدیقی اور دیگر کئی رہنما شامل تھے۔ بعد ازاں ان میں سے بعض رہنما دوبارہ سیاسی سرگرمیوں میں واپس آئے جبکہ بعض نے دوسری سیاسی جماعتوں سے روابط استوار کرلئے یا عملی طور پر خاموشی اختیار کر لی۔ قومی اسمبلی کی سطح پر بھی پارٹی کو نمایاں سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ راجہ ریاض احمد، نور عالم خان، نواب شیر وسیر، رانا محمد قاسم نون، مخدوم زادہ باسط سلطان، افضل خان ڈھنڈلہ، عامر طلال گوپانگ، عبدالغفار وٹو اور احمد حسین ڈیہڑ سمیت متعدد ارکان مختلف مراحل میں پارٹی سے الگ ہوئے، نکالے گئے یا پارٹی پالیسی سے انحراف کے مرتکب قرار پائے۔ بعض رہنماو¿ں نے اپنے سیاسی مستقبل کے پیش نظر الگ راستہ اختیار کیا جبکہ بعض نے پارٹی قیادت اور حکمت عملی سے اختلافات کو اپنی علیحدگی کی وجہ قرار دیا۔ پنجاب، جو 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کا سب سے بڑا سیاسی مرکز بن کر سامنے آیا تھا، گزشتہ دو برسوں میں سب سے زیادہ سیاسی انخلا کا شکار رہا۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، مظفرگڑھ، راجن پور، بھکر، اٹک اور سیالکوٹ سمیت کئی اضلاع سے تعلق رکھنے والے سابق ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز یا تو خاموش ہو گئے یا انہوں نے نئی سیاسی صف بندیاں شروع کر دیں۔ جنوبی پنجاب میں پارٹی کو نسبتاً زیادہ نقصان اٹھانا پڑا جہاں متعدد سابق ارکان اسمبلی اور بااثر سیاسی خاندانوں نے فاصلہ اختیار کیا۔ خیبرپختونخوا، جسے ایک وقت میں پاکستان تحریک انصاف کا مضبوط ترین سیاسی قلعہ سمجھا جاتا تھا، وہاں بھی صورتحال مختلف نہ رہی۔ سابق وزیراعلیٰ محمود خان، شوکت یوسفزئی، ضیاءاللہ بنگش، اشتیاق ارمڑ، محب اللہ خان، اقبال وزیر اور دیگر کئی رہنماو¿ں کے نام مختلف اوقات میں پارٹی کے اندرونی اختلافات اور سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں سامنے آئے۔ بعض رہنماو¿ں نے نئی سیاسی جماعتوں کے قیام میں کردار ادا کیا جبکہ بعض نے فعال سیاست سے وقتی دوری اختیار کر لی۔ سندھ میں محمود مولوی، آفتاب صدیقی اور دیگر چند رہنماو¿ں کی غیر فعالیت نے کراچی اور شہری سندھ میں پارٹی کی تنظیمی قوت کو متاثر کیا جبکہ بلوچستان میں پہلے سے محدود سیاسی موجودگی مزید سکڑتی دکھائی دی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا اور پنجاب میں سیاسی اور تنظیمی نقصان کا سامنا تو ہوا لیکن سندھ اور بلوچستان میں اس کے اثرات نسبتاً زیادہ گہرے ثابت ہوئے کیونکہ وہاں پارٹی کی تنظیمی بنیاد پہلے ہی کمزور تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی رہنماو¿ں اور ٹکٹ ہولڈرز کی بڑی تعداد کے غیر فعال ہونے یا علیحدگی اختیار کرنے کی بنیادی وجوہات میں 9 مئی کے مقدمات، گرفتاریوں اور طویل قانونی کارروائیوں کا خدشہ، انتخابی سیاست میں حصہ لینے کیلئے نئی حکمت عملی، حلقوں کی سطح پر سیاسی دباو¿، اندرونی اختلافات اور بعض رہنماو¿ں کے مطابق بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال شامل تھیں۔ بعض رہنماو¿ں نے اپنے عوامی بیانات میں خاندانوں اور کاروباری معاملات پر پڑنے والے اثرات کو بھی سیاسی فیصلوں کی وجہ قرار دیا۔ دوسری جانب پارٹی کی مرکزی قیادت اور متعدد سینئر رہنما مختلف مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرتے رہے۔ عمران خان، ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید سمیت متعدد رہنما مختلف اوقات میں جیلوں میں رہے یا ان کے خلاف مقدمات زیر سماعت رہے۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ اسکے سینکڑوں کارکن اور عہدیدار مختلف مقدمات میں گرفتار ہوئے جبکہ سرکاری اعداد و شمار اور عدالتی ریکارڈ کے مطابق گرفتار افراد کی تعداد مقدمات، ضمانتوں اور رہائیوں کے باعث مسلسل تبدیل ہوتی رہی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ میں کسی بڑی جماعت کو اتنے مختصر عرصے میں اتنی بڑی تنظیمی اور سیاسی تبدیلیوں کا سامنا کم ہی کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کئی رہنما پارٹی سے الگ ہوئے، غیر فعال ہوئے یا دوسری جماعتوں کا حصہ بن گئے تاہم اسکے باوجود تحریک انصاف ملک کی بڑی سیاسی قوتوں میں شامل ہے اور آنے والے سیاسی معرکے یہ طے کریں گے کہ آیا پارٹی اپنے کھوئے ہوئے سیاسی اثاثے واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا گزشتہ دو برس کے سیاسی جھٹکے اس کی مستقبل کی انتخابی سیاست پر مستقل اثرات مرتب کریں گے۔