لاہور (نوید چودھری) لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال کر وفاقی حکومت کی گریڈ 18 کی میڈیکل افسر ڈاکٹر عائشہ پرویز کو گزشتہ ڈیڑھ سے دو برس کے دوران غیر معمولی انداز میں نوازے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس عرصے میں انہیں کمپنی کے منظور شدہ سروس سٹرکچر اور اپرووڈ شیڈول میں شامل نہ ہونے والے متعدد غیر منظور شدہ عہدوں پر بٹھا کر نہ صرف بااختیار ذمہ داریاں سونپی جاتی رہیں بلکہ تنخواہوں، الاونسز اور دیگر بھاری مراعات سے بھی مسلسل مستفید کیا جاتا رہا ہے۔ چونکہ جن عہدوں پر انہیں تعینات رکھا گیا وہ ایل ڈبلیو ایم سی کے منظور شدہ ڈھانچے کا حصہ ہی نہیں تھے، اس لئے اس مدت کے دوران وصول کی گئی تنخواہوں، مالی مراعات اور دیگر سرکاری فوائد کی قانونی حیثیت بھی مشکوک ہو چکی ہے۔ کمپنی کے انتظامی حلقوں میں اب اس پورے معاملے کا مکمل احتساب، غیر قانونی طور پر ادا کی گئی مراعات کی جانچ پڑتال، سرکاری خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کے تعین اور قواعد کے مطابق قانونی کارروائی کی بازگشت تیزی سے سنائی دینے لگی ہے۔ ”مشرق“ کو موصول ہونے والے دستاویزی ثبوتوں کے مطابق ڈاکٹر عائشہ پرویز جو وفاقی حکومت کے جنرل ہسپتال اسلام آباد میں ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیکل کے عہدے پر فائز ہیں، کی ڈیپوٹیشن حکومت پنجاب نے 16 جولائی 2024ءسے 17 جولائی 2026ءتک منظور اور ریگولرائز کی تھی، تاہم 18 جولائی 2026ءسے 19 جولائی 2028ءتک ڈیپوٹیشن میں توسیع کی درخواست باقاعدہ مسترد کر دی گئی۔ اس کے باوجود ڈیپوٹیشن کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی وہ ایل ڈبلیو ایم سی میں جنرل منیجر کے اختیارات استعمال کر رہی ہیں اور کمپنی کی انتظامی ذمہ داریاں بدستور ان کے سپرد ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر عائشہ پرویز کو ان کے بنیادی کیڈر اور پیشہ ورانہ شعبے سے ہٹ کر ایسے انتظامی عہدوں پر تعینات رکھا گیا جو نہ صرف کمپنی کے منظور شدہ آرگنائزیشنل سٹرکچر میں شامل نہیں تھے بلکہ ان پر تقرری کا کوئی باقاعدہ انتظامی جواز بھی موجود نہیں تھا۔ اس غیر معمولی رعایت نے ادارے کے سروس سٹرکچر، میرٹ اور قواعد کی عملداری پر سنگین اثرات مرتب کیے۔ ڈیپوٹیشن کی قانونی مدت ختم ہونے کے بعد کسی بھی افسر کی جانب سے انتظامی اختیارات کا استعمال، سرکاری فائلوں پر احکامات جاری کرنا، مالی منظوریوں پر دستخط کرنا اور ادارہ جاتی فیصلوں میں کردار ادا کرنا مستقبل میں کمپنی کیلئے قانونی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود متعلقہ احکامات پر عمل درآمد نہ ہونا ادارے کی عملی کمزوری کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ نے اس معاملے پر مو¿ثر پیش رفت نہیں کی، جبکہ نئے تعینات ہونے والے ڈائریکٹر جنرل ستھرا پنجاب کو بھی اس پورے معاملے کی مکمل نوعیت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ اب مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ غیر منظور شدہ عہدوں پر تعیناتی، ڈیپوٹیشن ختم ہونے کے بعد اختیارات کے استعمال اور اس دوران ادا کی گئی تنخواہوں و مراعات کا مکمل آڈٹ کرایا جائے، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور قواعد کی خلاف ورزی میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری اداروں میں قانون کی بالادستی اور احتساب کا عمل محض دعووں تک محدود نہ رہے۔
ایل ڈبلیو ایم سی، قواعد و ضوابط نظرانداز، وفاقی حکومت کی میڈیکل افسر پر غیرمعمولی نوازشات



















