لاہور (قمر عباس نقوی) خوشاب محکمہ آبپاشی ایکسین اور دیگر افسران کی 40کروڑ کی مالی بے ضابطگیاں، مالی سال 2022-23 ءکے دوران ورک چارج ملازمین کی مد میں تقریباً 3 کروڑ روپے کی خوردبرد سمیت پٹرول میں 65لاکھ جبکہ جون 2023ءمیں 53 لاکھ روپے کی مشکوک ادائیگیاں کا بھی انکشاف۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا ویژن اداروں کو کرپشن فری بنانے کی منصوبہ بندی کو محکمہ آبپاشی خوشاب انتظامیہ کی جانب سے ناکام بنانے کی کوشش، محکمہ کے ملازم کی جانب سے متعلقہ ڈویژن میں ایکسین خوشاب اور ایس ڈی او سمیت سب انجینئر کی جانب سے مختلف مد میں مالی خوردبرد کی تحریری شکائیت جمع کروائی گئی جس میں الزم عائد کئے گئے تھے کہ ایکسین آبپاشی سمیت ایس ڈی او اور سب انجینئر کے خلاف بغیر ٹینڈر کام اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تقریباً 40 کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی ہے اس پر میں تحقیقات کروائی جائیں جس پر تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے 14 اپریل 2026 کو تمام متعلقہ ریکارڈ طلب کیا گیا تھا اس سلسلے میں انکوائری آفیسر نے محکمہ ایریگیشن کے افسران کو طلب کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ الزامات کے مطابق ایکسین آبپاشی نے مالی سال 2022-23ءکے دوران ورک چارج ملازمین کی مد میں تقریباً 3 کروڑ روپے کی خردبرد کی، جس میں مبینہ طور پر بوگس ملازمین کے نام پر تنخواہیں نکلوائی گئیں پٹرول کی مد میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جہاں ایک سال میں 65 لاکھ روپے جبکہ جون 2023 میں ہی 53 لاکھ روپے کی مشکوک ادائیگیاں کی گئیں انکوائری میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 25 لاکھ روپے کی بوگس کنٹیجنسی رسیدیں مختلف ملازمین کے نام پر بنائی گئیں اسی طرح ٹیوب ویلوں سے متعلق بھی فراڈ کے الزامات ہیں، جہاں فعال سیٹ نکال کر دوبارہ جعلی تخمینے بنا کر فنڈز نکلوائے گئے مکینیکل سیکشن میں تعینات ایس ڈی او سجاد پر بھی کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ سول ڈپلومہ ہولڈر ہونے کے باوجود مکینیکل شعبے میں تعینات رہے اور مبینہ طور پر غیر قانونی فوائد حاصل کرتے رہے ان کے طرزِ زندگی مہنگی گاڑی اور اسلام آباد میں رہائش کو بھی آمدن سے زائد اثاثوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مدعی عتیق الرحمن خان نے مو¿قف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے تمام ثبوت، بشمول تصاویر، اینٹی کرپشن حکام کو فراہم کر دیے ہیں اور جلد موقع پر وزٹ کی درخواست بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں اور قومی خزانے سے لوٹی گئی رقم واپس وصول کی جائے۔ اینٹی کرپشن حکام کے مطابق انکوائری جاری ہے اور جلد اس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا جبکہ ذمہ داران کیخلاف قانونی کارروائی بھی متوقع ہے۔ ایکسین آبپاشی خوشاب کا کہنا ہے کہ تمام الزامات بے بنیاد ہیںجو ہم پر الزام لگائے گئے ہیں ان میں وہ بھی لکھا گیا ہے کہ ہم نے جو خرچ اخراجات کئے ہیں اور جو بھی سرکاری امور کی انجام دہی کی گئی ہے وہ بھی کرپشن ہے جبکہ شکایت کرنے والا محکمہ کا ملازم ہے اور بلیک میلرہے مختلف ڈویژنز کے افسران کے خلاف جھوٹی درخواستیں دیتا رہتا ہے اور جس یونین کے لیٹر ہیڈ کا استعمال کر رہا ہے وہ یونین رجسٹر ہی نہیں جعلی یونین کا نام استعمال کر رہا ہے۔
خوشاب، ایکسین محکمہ آبپاشی و دیگر افسران کی 40کروڑ کی مالی بے ضابطگیاں


















