اسلام آباد: (بیورورپورٹ)قومی اسمبلی،سینٹ نے ڈیفنس فورسزاور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2026 میں ترمیم کے بل کثرت رائے سے منظور کرلیے۔
سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں پہنچے ،اپوزیشن نشستوں پر جاکر محمود اچکزئی سے مصافحہ کیا،بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور عامر ڈوگر سے بھی ملے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ڈیفنس فورسز ،نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ ترمیمی بل 2026پیش کیے ،اپوزیشن نے ضمنی ایجنڈے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا بل کی کاپیاں نہیں دی گئیں، عالیہ کامران نے کہا ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنا سیکھیں، وزیر قانون نے کہا بل اراکین کے ٹیبلٹ میں موجود ہے،اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا پارلیمنٹ کے ممبر ،چاہتے ہیں قانون سازی ہو، بل آپ لےکر دیں، ساتھی پڑھ کر اپنی رائے دیں گے، کم از کم بحث کیلئے 2،3دن رکھیں،بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آسمان کا مسئلہ بنا دیاگیا، بدترین کریمنل کا بھی حق ہوتا ہے صحت کا خیال رکھا جائے،قومی اسمبلی نے دونوں بلوں کی منظوری دےدی،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو بات کرنے کا موقع نہ دینے پر اپوزیشن نے واک آوٹ کیا۔
بعدازاں چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں 27ویںآئینی ترمیم کی روشنی میں پیش کیے گئے دونوں بلوں کوکثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ترامیم 27 ویں آئینی ترمیم میں ہوچکیں، ڈیفنس فورس کا نیا عہدہ بنایا گیا ،مسلح افواج کے 3اداروں کی کوآرڈی نیشن شامل ہے۔
قبل ازیں وفاقی کابینہ نے ڈیفنس فورسز ، نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی،حکومت کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے بعد نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم ضروری تھیں، متعلقہ قانونی و انتظامی امور کو نئے آئینی ڈھانچے سے ہم آہنگ کیا جائےگا۔
بل کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی کمان، کنٹرول، تنظیم، تربیت، انتظامی امور، مشترکہ آپریشنل صلاحیت، جنگی تیاری اور تینوں سروسز کے درمیان رابطہ کاری کے اختیارات حاصل ہوں گے،ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کرنے کی شق بھی شامل ہے جو مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے طور پر کام کرے گا،سربراہی چیف آف ڈیفنس فورسز کریں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز قومی سلامتی و اہم فوجی معاملات پر وزیراعظم کو مشورے دیں گے،سی ڈی ایف کو قانون کے تحت تفویض کردہ اختیارات استعمال کرنے کا اختیار ہوگا،وزیراعظم کی منظوری سے اضافی اختیارات بھی تفویض کیے جا سکیں گے،چیف آف ڈیفنس فورسز کو تفویض کردہ اختیارات کے استعمال کےلئے حکومتی منظوری کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا ،بعض اختیارات براہ راست استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
دریں اثنا وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہ ابل میں خدانخواستہ کسی چیز کو خطرہ ہونےوالی کوئی بات نہیں ،آخری آئینی ترمیم کے مطابق قانون کو ڈھالا ،پورا بل پڑھ کر سنایا گیا ،عجلت والی کوئی چیز نہیں ،احتجاج کرنا اپوزیشن کا کام ہے ،فضل الرحمن بڑے قابل احترام ہیں، بل کا مسودہ تمام لوگوں کے پاس موجود تھا۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہاپی ٹی آئی نے کبھی بھی ڈیفنس فورسز کے قوانین کو متنازع نہیں بنایا،ٹیکنیکل نوعیت کا معاملہ ، پاکستان ،پاک فوج ہماری ہے،مطالبہ کیا تھا قانون سازی کو پہلے پارلیمان میں لائیں۔
چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کے وسیع اختیارات دینے کا بل پارلیمنٹ سے منظور


















