اسلام آباد:(بیورورپورٹ)عالمی بینک نے کہاہے پاکستان این ایف سی ایوارڈ میں اصلاحات کرے،قرضوں کی ادائیگی، سماجی تحفظ، انفرا سٹرکچر، سکیورٹی ،ماحولیاتی تحفظ سمیت اہم قومی منصوبوں ، شعبوں کا مالی بوجھ وفاق ، صوبے ملکر اٹھائیں، زرعی آمدن پر وصولی اور پراپرٹی ٹیکس کا یکساں نفاذ ہونا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق این ایف سی ایوارڈ ،اضافی مراعات کو کارکردگی، شفافیت، مالی نظم و ضبط اور بہتر خدمات سے جوڑا جائے، قرضوں کی ادائیگی، انفرا سٹرکچر،سماجی تحفظ،سکیورٹی ،ماحولیاتی منصوبوں میں پیشرفت کیلئے باہمی تعاون کرنا ہوگا۔
ترقی کیلئے مالیاتی نظام کی مضبوط وفاقیت پر جاری رپورٹ کے مطابق 18ویں ترمیم ،این ایف سی ایوارڈ سے صوبوں کی ذمہ داریوں ،ریونیو میں اضافہ ہوا لیکن قومی مالیاتی نظام میں کمزوریاں برقرار ہیں، وفاقی اخراجات میں کمی نہیں آئی، 2010 سے2024 کے دوران صوبائی ریونیو4سے بڑھ کر6.5 فیصد ہوگیا ، مقامی حکومتوں کے اخراجات 10 سے کم ہو کو صرف 5 فیصد تک محدود ،مالی نظم وضبط ،ریونیو ، صحت و تعلیم سمیت عوام کو سہولیات کی فراہمی کے چیلنجز برقرار ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق صوبوں کے پاس دستیاب اضافی فنڈز میں سے 80 فیصد تنخواہوں ،پنشن جیسے اخراجات پر خرچ ہوجاتے ہیں،زراعت کاجی ڈی پی میں شیئر 20 فیصد سے زائد لیکن بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ،پاکستان کی 9.9 کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح ناکافی اور خطے میں کم ترین ہے۔
دریں اثنا عالمی بینک نے پنجاب کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پروگرام کیلئے 7 کروڑ ڈالر کی منظوری دےدی،پروگرام کے تحت براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رسائی ،ڈیجیٹل سروسز میں توسیع کی جائے گی، 2031 تک مزید 21 لاکھ افراد کو براڈبینڈ انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کا ہدف مقرر کردیا گیا،پنجاب میں فکسڈ براڈبینڈ کوریج 78 لاکھ سے بڑھا کر 99 لاکھ افراد تک پہنچانے کا منصوبہ ہے،منصوبے کے تحت پنجاب میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کیلئے 5 کروڑ ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، رائٹ آف وے اجازت ناموں کا دورانیہ 90 دن سے کم کرکے 21 دن کرنے کا ہدف ہوگا، 2031 تک 2 کروڑ 89 لاکھ افراد کو بہتر ڈیجیٹل سرکاری خدمات فراہم کی جائیں گی۔
پاکستان این ایف سی ایوارڈ میں اصلاحات کرے،عالمی بینک


















