لندن نواز شریف کی سیاسی واپسی کا آغاز اور ان کا من
شیئر کریں
نواز شریف کی سیاسی واپسی اب صرف ایک امکان نہیں بلکہ ایک واضح حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کی انتخابی مہم میں ان کی براہِ راست شرکت اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت سنبھالنا اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر فعال سیاست کے مرکز میں آ رہے ہیں۔مظفرآباد اور میرپور کے بڑے جلسے صرف انتخابی اجتماعات نہیں تھے بلکہ ان میں ایک بڑا سیاسی پیغام بھی موجود تھا۔ میری نظر میں ان جلسوں نے ثابت کیا کہ نواز شریف آج بھی عوامی کشش رکھنے والے بڑے سیاسی رہنما ہیں۔ ان کے کارکن اور حامی ایک عرصے سے ان کی براہِ راست سیاسی موجودگی محسوس کر رہے تھے، اور ان کی واپسی نے پارٹی میں نیا جوش پیدا کیا ہے۔ان جلسوں کے ذریعے نواز شریف نے اپنے سیاسی مخالفین اور ان تجزیہ کاروں کو بھی پیغام دیا جو یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ عملی سیاست سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔ ان کی میدان میں واپسی نے اس تاثر کو تبدیل کیا ہے اور ظاہر کیا ہے کہ وہ اب بھی پاکستان کی سیاست کے ایک اہم ترین کردار ہیں۔نواز شریف سے میری آخری دو ملاقاتیں ایک مری کے قریب گلیات کی پہاڑیوں میں اور دوسری جاتی امرا رائیونڈ میں میرے لیے اہم تجربہ تھیں۔ مجھے ان ملاقاتوں میں یہ محسوس ہوا کہ وہ جلد بازی کے بجائے ایک طویل المدتی سیاسی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں اور اپنی واپسی کے لیے مرحلہ وار منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔میں یہ منظر پہلے بھی دو مرتبہ دیکھ چکا ہوں۔پہلی مرتبہ 2006 میں، جب سعودی عرب سے واپسی کے بعد نواز شریف لندن آئے۔ اس وقت بھی میں نے دیکھا کہ انہوں نے جلد بازی کے بجائے صبر اور حکمت عملی کے ساتھ اپنی سیاسی تنظیم کو دوبارہ مضبوط کیا، کارکنوں سے رابطے بحال کیے اور پاکستان واپسی کے لیے سیاسی بنیاد تیار کی۔دوسری مرتبہ 2024 کے عام انتخابات سے قبل، جب وہ لندن میں تین سال سے زائد عرصہ گزارنے کے بعد واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔ اس دوران بھی ان کا انداز محتاط اور منصوبہ بندی پر مبنی نظر آیا۔ میری نظر میں وہ سیاسی حالات کا جائزہ لے رہے تھے اور مناسب وقت کا انتظار کر رہے تھے۔موجودہ صورتحال بھی اسی سیاسی انداز کی عکاسی کرتی ہے۔ نواز شریف نے اپنی ٹیم کو مختلف محاذوں پر متحرک رکھا۔ مرکز میں وزیراعظم شہباز شریف نے مشکل معاشی، سیاسی اور سفارتی حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ ان کے حامیوں کے مطابق ان کے دور میں پاکستان کی عالمی سطح پر اہمیت اور سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔دوسری جانب مریم نواز شریف نے پنجاب میں بطور وزیراعلی ایک فعال سیاسی اور انتظامی کردار ادا کیا۔ میری رائے میں ان کی توجہ ترقیاتی منصوبوں، انفراسٹرکچر، عوامی سہولتوں اور انتظامی اصلاحات پر رہی، جس سے ان کی سیاسی شناخت مضبوط ہوئی ہے۔پنجاب نے، میری نظر میں، یہ پیغام دیا کہ صوبائی حکومتیں بہتر منصوبہ بندی، ترقیاتی کاموں، انفراسٹرکچر اور انتظامی کارکردگی کے ذریعے عوامی اعتماد حاصل کر سکتی ہیں۔نواز شریف کی سیاسی طاقت صرف پارٹی تنظیم تک محدود نہیں بلکہ ان کے سابقہ دور حکومت کا ریکارڈ بھی ان کے حامیوں کے لیے اہم ہے۔ ان کے حامیوں کا مقف ہے کہ ان کے ادوار میں موٹرویز، توانائی منصوبوں، مواصلاتی نظام اور بڑے ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان کے مطابق اس دور میں پاکستان معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا تھا اور سرمایہ کاری و ترقی کے امکانات بہتر ہو رہے تھے۔اگرچہ ان کی حکومتوں کے بارے میں سیاسی آرا مختلف ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ نواز شریف پاکستان کے سب سے تجربہ کار سیاسی رہنماں میں شامل ہیں۔ کئی دہائیوں پر محیط سیاسی سفر، حکمرانی کا تجربہ اور عالمی رہنماں سے روابط انہیں پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے سینئر ترین سیاست دانوں میں شامل کرتے ہیں۔آج نواز شریف ایک مرتبہ پھر ایک سوچے سمجھے سیاسی منصوبے کے ساتھ میدان میں نظر آ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر انتخابی مہم میں ان کی براہِ راست نگرانی اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ پارٹی کی سیاسی سمت کو خود متعین کر رہے ہیں۔میری رائے میں نواز شریف کا سیاسی فارمولا وہی ہے جو وہ پہلے بھی استعمال کر چکے ہیں: صبر، تنظیم سازی، مضبوط ٹیم، حکمرانی کے ذریعے سیاسی بیانیہ مضبوط کرنا اور پھر مناسب وقت پر عوام کے درمیان واپس آنا۔حتمی فیصلہ عوام کریں گے، لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے مشاہدے کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کی سیاسی واپسی ایک بار پھر ایک منظم اور مرحلہ وار حکمت عملی کے تحت آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں
لندن نواز شریف کی سیاسی واپسی کا آغاز اور ان کا من