لاہور(نعیم جاوید)شہر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد سبزیوں، پھلوں اور دالوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ مارکیٹ کمیٹیوں، آڑھتیوں اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری صرف ایک فریق پر عائد نہیں کی جا سکتی بلکہ اس کے پیچھے سپلائی چین، موسمی حالات، ٹرانسپورٹ اخراجات، ذخیرہ اندوزی اور طلب و رسد کا عدم توازن بنیادی عوامل ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی کے حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں شدید گرمی، بعض علاقوں میں بارشوں اور فصلوں کی محدود پیداوار کے باعث سبزیوں اور پھلوں کی ترسیل متاثر ہوئی منڈیوں میں آنے والی اجناس کی مقدار کم ہونے سے بولی کے دوران نرخ بڑھ گئے جس کا اثر براہ راست ریٹ لسٹوں پر پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کمیٹیاں روزانہ نیلامی کی نگرانی کرتی ہیں اور سرکاری نرخ مقرر کرتی ہیں تاہم کھلے بازار میں بعض اوقات دکاندار اضافی منافع کیلئے نرخ بڑھا دیتے ہیں۔ تاجر تنظیموں کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ سبزی فروش اور ریٹیلرز کو بلاوجہ مہنگائی کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق ڈیزل کی قیمت، ٹرانسپورٹ کرایوں، کولڈ اسٹوریج اخراجات اور مزدوری کی بڑھتی ہوئی لاگت نے کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ایک تاجر رہنما نے بتایا کہ اگر منڈی میں آلو، پیاز یا ٹماٹر مہنگے خریدے جا رہے ہوں تو دکاندار انہیں کم قیمت پر فروخت نہیں کر سکتادالوں کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے درآمد کنندگان اور تھوک تاجروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاو، روپے کی قدر میں کمی اور شپنگ اخراجات میں اضافے کے باعث دالوں کے نرخ متاثر ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اقسام کی دالوں کی درآمد محدود ہونے سے مقامی مارکیٹ میں قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیںمارکیٹ ذرائع کے مطابق بعض مواقع پر ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے جب کسی فصل کی پیداوار کم ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو بعض عناصر بڑی مقدار میں مال ذخیرہ کر لیتے ہیں جس سے مارکیٹ میں رسد کم اور قیمتیں زیادہ ہو جاتی ہیں۔ تاجر تنظیمیں اس تاثر کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ چند افراد کی کارروائیوں کا الزام پوری تاجر برادری پر نہیں لگایا جا سکتاصارفین کا موقف ہے کہ سرکاری نرخ نامے اور بازار کی اصل قیمتوں میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور مارکیٹ کمیٹیاں قیمتوں کی مو¿ثر نگرانی کریں اور منافع خوری کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائیںمعاشی ماہرین کے مطابق سبزی، پھل اور دالوں کی قیمتوں میں اضافے کا اصل سبب متعدد عوامل کا مجموعہ ہے جن میں پیداوار میں کمی، ترسیلی اخراجات، درآمدی لاگت، ذخیرہ اندوزی اور نگرانی کے نظام کی کمزوریاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف دکانداروں یا آڑھتیوں کو ذمہ دار قرار دینے کے بجائے پوری سپلائی چین میں موجود مسائل کو حل کرنا ہوگا تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔ تاجر تنظیموں اور مارکیٹ کمیٹیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زرعی پیداوار بڑھانے، کولڈ چین انفراسٹرکچر بہتر بنانے، ٹرانسپورٹ لاگت کم کرنے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مو¿ثر کارروائی کے اقدامات کئے جائیں تاکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے اور عام شہریوں پر مہنگائی کا بوجھ کم ہو۔
اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں سے شہری پریشان



















