آئین تمام شہریوں کو بلاامتیاز مذہب تمام حقوق فراہم کرتا ہے :چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ

لاہور(قاضی ندیم اقبال /عکاسی: میاں شاہنواز) چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ حکومت پاکستان قمرالزمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے قومی پرچم میں سفید رنگ ملک میں بسنے والی اقلیتوں کی نمائندگی کا احساس دلاتا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جہاں آئین تمام شہریوں کو بلاامتیاز مذہب، نسل اور زبان برابر حقوق فراہم کرتا ہے۔وفاقی حکومت ہو یا حکومت پنجاب اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی غرض سے ایک پیج پر ہیں۔ تمام شہریوں کو بلا امتیاز مساوی حقوق، عزت، انصاف اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود، معاشی خودمختاری، تعلیم اور روزگار کے مواقع میں اضافہ حکومت کے ویژن کا اہم حصہ ہے۔ حکومت پاکستان انسانی حقوق کے تحفظ، مذہبی ہم آہنگی اور معاشرتی شمولیت کے فروغ کیلئے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹھوس بنیادوں پرعملی اقدامات کر رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور بین المذاہب بھائی چارے کو فروغ دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو آئینی حقوق حاصل ہیں اور وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ بھارت میں اقلیتوں کو درپیش مسائل اور مصائب عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ہندو مندروں، سکھ گوردواروں اور دیگر مذہبی مقامات کی دیکھ بھال اور زائرین کو سہولیات فراہم کرنا بورڈ کے فرائض میں شامل ہے۔ اور ہم یہ ذمہ داری احسن انداز میں نبھا رہے ہیں۔اس امر کا اظہار انہوں نے ”مشرق“ کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق بھی موجود تھے۔پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں قمر الزمان نے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ 1960ءمیں قائم کیا گیا۔ اس کے قیام کا بنیادی مقصد ان متروکہ وقف املاک(غیر مسلم وقف املاک) کی دیکھ بھال، انتظام اور تحفظ تھا جو ہندو اور سکھ برادریوں کی مذہبی، تعلیمی اور خیراتی تنظیموں سے متعلق تھیں۔ اس ادارے کی قانونی بنیاد بعد ازاں 1975کے ایکٹ کے ذریعے مضبوط کی گئی جس کے تحت بورڈ کو باقاعدہ قانونی حیثیت اور اختیارات حاصل ہوئے۔ بورڈ کے قیام کی بنیاد دو اہم بین الاقوامی معاہدوںنہرو-لیاقت معاہدہ (1950ئ) اور پنت-مرزا معاہدہ (1955ئ)سے جڑی ہوئی ہے۔ متروکہ وقف املاک بورڈ بنیادی طور پر پانچ سے زائد قانونی و انتظامی اصولوں کے تحت کام کرتا ہے۔ بورڈ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیر انتظام کام کرتا ہے اور اس کے اہم فیصلے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور منظوری کے تابع ہوتے ہیں۔ دوسرا،متروکہ وقف املاک ایکٹ 1975،بورڈ کے اختیارات، ذمہ داریاں، جائیدادوں کا انتظام، فروخت، لیز، کرایہ داری اور دیگر امور اسی قانون کے تحت چلتے ہیں۔ تیسراتمام متروکہ جائیدادوں کا مستند ریکارڈ محفوظ رکھنا اور ان کی قانونی حیثیت برقرار رکھنا بورڈ کی ذمہ داری ہے۔چیئر مین متروکہ وقف املاک بورڈ نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی اور استحکام اس وقت ممکن ہوتا ہے جب تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مواقع میسر ہوں۔ مذہبی رواداری، باہمی احترام اور انصاف ایسے اصول ہیں جو معاشروں کو مضبوط بناتے ہیں۔پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جہاں آئین تمام شہریوں کو بلاامتیاز مذہب، نسل اور زبان برابر حقوق فراہم کرتا ہے۔ ملک میں بسنے والے غیر مسلم شہری، جن میں ہندو، سکھ، مسیحی، پارسی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے شامل ہیں، پاکستان کے آئین کے تحت مکمل شہری حقوق رکھتے ہیں۔ انہیں مذہبی آزادی، تعلیم، روزگار، سیاسی نمائندگی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کیلئے مخصوص نشستیں موجود ہیں، جس سے انہیں قانون سازی کے عمل میں شرکت کا موقع ملتا ہے۔پاکستانی اقلیتیں ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ تعلیم، صحت، تجارت، کھیل اور سرکاری اداروں سمیت مختلف شعبوں میں غیر مسلم شہری اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ حکومت بھی اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں مذہبی تہواروں کے مواقع پر خصوصی انتظامات، عبادت گاہوں کی بحالی اور اقلیتی کمیشن کا قیام شامل ہیں۔ اس طرح پاکستان گذشتہ کئی عشروں سے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے جہاں تمام شہری برابری اور احترام کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔دوسری جانب بھارت میں بسنے والی بعض اقلیتیں مختلف مسائل اور چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں اور مبصرین کی رپورٹس میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک، نفرت انگیز واقعات اور سماجی دباو¿ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض اوقات مذہبی بنیادوں پر تشدد، عبادت گاہوں پر حملوں اور اقلیتی برادریوں کے حقوق سے متعلق تنازعات کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، جس کے باعث اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ملک بھر میں موجود غیر مسلم وقف املاک کی بابت پوچھے گئے سوال کے جواب میں قمرالزمان نے کہا کہ لاہور سمیت ملک بھر میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے 7 زون موجود ہیں، جن کے تحت 24 ضلع دفاتر قائم ہیں۔ ملک بھر میں بورڈ کے زیر انتظام 1لاکھ13ہزار150ایکڑ اور ایک مرلہ رقبہ موجود ہے۔جس میں سے 94ہزار6سو59 ایکڑ،2کنال 10مرلہ رقبہ لیز پر دیا جاتا ہے۔ جبکہ 18ہزار4سو90ایکڑ5کنال11مرلے رقبہ ان لیزڈ ہے۔ملک بھر میں ہماری 18006 زرعی لاٹس ہیں، جن میں سے 12040لاٹس کی سالانہ بنیادوں پر نیلامی کی جاتی ہے ، جبکہ 5966لاٹس کی توسیع کی جاتی ہے۔ہندو مندروں، سکھ گوردواروں اور دیگر مذہبی مقامات کی دیکھ بھال اور زائرین کو سہولیات فراہم کرنا بورڈ کے فرائض میں شامل ہے۔ اور ہم یہ ذمہ داری احسن انداز میں نبھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق، ان کے دو ڈپٹی سیکرٹریز اور پورا شعبہ متحرک اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح بورڈ سالانہ بجٹ تیار کرتا ہے، آمدنی و اخراجات کا حساب رکھتا ہے اور املاک سے حاصل ہونے والی آمدن کو قانونی مقاصد کیلئے استعمال کرتا ہے۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ملک بھر میں تمام متروکہ وقف املاک کی نگرانی، تحفظ، دیکھ بھال اور انتظام کرنا۔تمام اراضی، عمارات، مذہبی مقامات اور دیگر اثاثوں کا مستند ریکارڈ تیار کرنا اور محفوظ رکھناگوردواروں، مندروں اور دیگر مقدس مقامات کی مرمت، بحالی اور حفاظت کرنا، ملکی اور غیر ملکی سکھ و ہندو یاتریوں کیلئے رہائش، سکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامات کرنا، زرعی اراضی اور شہری جائیدادوں کو مقررہ قواعد کے مطابق کرایہ یا لیز پر دینا اور آمدنی حاصل کرنا، متروکہ جائیدادوں پر غیر قانونی قبضوں کی نشاندہی، واگزاری اور قانونی کارروائی کرنا، فلاحی و تعلیمی منصوبے چلانا،قانون کے تحت تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، یتیم خانوں اور دیگر فلاحی سرگرمیوں کیلئے وسائل فراہم کرنا یا ادارے قائم کرنا، زرعی زمینوں کی پیداواری صلاحیت اور جائیدادوں کی تجارتی قدر بڑھانے کیلئے ترقیاتی منصوبے بنانا،غیر مسلم وقف املاک کے تحفظ کیلئے عدالتوں میں مقدمات دائر کرنا یا ان کا دفاع کر نا بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے۔ چیئر مین بورڈ قمر الزمان نے کہا کہ حالیہ برسوں میں بورڈ نے غیر قانونی قابضین کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی ہے تاکہ قومی اثاثوں کو ناجائز قبضوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔ اس پالیسی کے تحت ایسی تمام جائیدادوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جن پر افراد یا گروہوں نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔بورڈ نے اس مقصد کے حصول کیلئے مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا ہے۔ خصوصاً وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) بورڈ کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ ایف آئی اے کی معاونت سے جعلی دستاویزات، غیر قانونی الاٹمنٹس اور قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیاں مزید مو¿ثر ہوئی ہیں اور مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔ مشترکہ آپریشنز کے ذریعے نہ صرف غیر قانونی قابضین کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں بلکہ سرکاری املاک کو واگزار بھی کرایا جا رہا ہے۔