بطور آئی جی جیل کامیابیاں ٹیم کی مشترکہ محنت، پیشہ ورانہ صلاحیت کا نتیجہ ہیں:فاروق نذیر

لاہور (مرزا ندیم بیگ) سابق انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ملنے والی اعزازی شیلڈز کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پنجاب اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں دی گئی شیلڈ پر درج الفاظ نے انہیں جذباتی کر دیا اور محکمہ جیل میں گزارے گئے برسوں کی یادیں تازہ کر دیں۔اپنے ایک بیان میں میاں فاروق نذیر نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں اور ملک کے اہم قومی اداروں کی جانب سے ملنے والے اعزازات ان کیلئے باعث فخر ہیں، تاہم ہوم سیکرٹری پنجاب احمد جاوید قاضی کی جانب سے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام منعقدہ خصوصی فیملی ڈنر تقریب میں دی جانے والی شیلڈ پر درج تحریر نے انہیں اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی کے اہم لمحات یاد دلا دیے۔انہوں نے کہا کہ شیلڈ پر درج الفاظ دراصل ان اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں جو انہوں نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مل کر محکمہ جیل کے ملازمین اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کیلئے کیے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران پنجاب کی 35 جیلوں میں نئی وارڈر لائنز تعمیر کی گئیں جبکہ ملازمین کیلئے اڑھائی ہزار سے زائد رہائشی یونٹس بھی بنائے گئے۔انہوں نے بتایا کہ ملازمین کی فلاح کیلئے پرزن فاونڈیشن قائم کی گئی جس کے تحت ملازمین کی بیٹیوں کی شادی کیلئے تین لاکھ سے چھ لاکھ روپے تک گرانٹ، زیر تعلیم بچوں کیلئے پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے سے زائد سالانہ تعلیمی وظائف، تجہیز و تکفین کیلئے ایک لاکھ روپے تک امداد اور معذور و حافظ قرآن بچوں کیلئے سالانہ ایک لاکھ روپے گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح شدید گرمی میں ڈیوٹی سرانجام دینے والے ملازمین کیلئے نمکین لسی کی فراہمی، میرٹ پر بھرتیوں، آٹھ گھنٹے ڈیوٹی سسٹم اور افسران و ملازمین کی تنخواہوں اور گریڈز میں اضافے جیسے اہم اقدامات بھی عمل میں لائے گئے۔سابق آئی جی جیل نے کہا کہ قیدیوں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی متعدد انقلابی اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔ جیلوں میں کھانے کے معیار اور مینیو کو بہتر بنایا گیا، آڈیو و ویڈیو کال کی سہولت کیلئے پی سی اوقائم کیے گئے، نئے ویٹنگ اور ملاقاتی شیڈز تعمیر کیے گئے جبکہ صاف اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹس اور واٹر چلرز نصب کیے گئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ قیدیوں کیلئے تین لاکھ سے زائد کمبل فراہم کیے گئے جبکہ مخیر حضرات اور ڈونرز کے تعاون سے ڈیڑھ ارب روپے سے زائد جرمانے ادا کروا کر آٹھ ہزار سے زائد قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی گئی۔ جیلوں میں معیاری آٹے کی فراہمی کیلئے فلور ملوں سے خریداری ختم کر کے جدید آٹا چکیاں نصب کی گئیں جس کے نتیجے میں محکمہ کو تقریباً پچاس کروڑ روپے کی بچت ہوئی۔میاں فاروق نذیر کے مطابق پنجاب کی تمام جیلوں میں قیدیوں کو معیاری اور سستی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کیلئے جنرل سٹورز قائم کیے گئے جبکہ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ کیلئے 35 کے قریب ووکیشنل ٹریننگ پروگرامز اور ہنر سکھانے کے مراکز بھی قائم کیے گئے۔انہوں نے حکومت پنجاب، ہوم سیکرٹری احمد جاوید قاضی، تمام ڈی آئی جیز، سپرنٹنڈنٹس جیل، افسران اور ملازمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام کامیابیاں کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری ٹیم کی مشترکہ محنت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور جذبہ خدمت کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ جیل کی نیک نامی، عوامی اعتماد اور اصلاحی کردار میں جو مثبت اضافہ ہوا، وہ پوری ٹیم کیلئے ایک قابل فخر سرمایہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محکمہ جیل خانہ جات پنجاب نے گزشتہ برسوں میں اصلاحات، شفافیت، قیدیوں اور ملازمین کی فلاح کے حوالے سے نئی مثالیں قائم کیں اور امید ہے کہ یہ سفر آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔