پاکستان، بھارت کشیدگی کے بعد سول ڈیفنس کے ادارے کو ازسرنو فعال کیا گیا:تسنیم علی خان

لاہور (قاضی ندیم اقبال) ڈائریکٹر سول ڈیفنس پنجاب تسنیم علی خان نے کہا ہے کہ پاک، بھارت کشیدگی کے بعد حکومت پنجاب نے سول ڈیفنس کے ادارے کو ازسرنو فعال، مضبوط اور جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے جامع اقدامات کا آغاز کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کی روشنی میں سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی سربراہی میں سول ڈیفنس کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کیلئے مرحلہ وار اصلاحاتی پروگرام ترتیب دیا گیا جس کے تحت ادارے کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے، خالی آسامیوں پر بھرتیوں، جدید تربیتی نظام کے نفاذ اور اضلاع کی سطح پر سول ڈیفنس دفاتر کو فعال بنانے کے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ ایمرجنسی رسپانس، سرچ اینڈ ریسکیو، ابتدائی طبی امداد، آگ بجھانے اور شہری دفاع سے متعلق جدید کورسز بھی متعارف کروائے جا رہے ہیں۔اس امر کا اظہار انہوں نے ”مشرق“ کو دئیے گئے انٹریو میں دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر قیام امن ہو یا حالت جنگ شہری دفاع/ سول ڈیفنس کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے دی گئی گائیڈ لائنز کی روشنی میں ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس پنجاب کے قائم کردہ آن لائن رجسٹریشن نظام کے ذریعے 3,57,554 رضاکاروں کا اندراج کیا جا چکا ہے۔ یہ رضاکار ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے دوران ضلعی انتظامیہ کی معاونت کیلئے ہر وقت دستیاب ہیں۔ جن میں 2,129 بامعاوضہ اور 6,874 بلا معاوضہ رضاکار شامل ہیں، جو ہر قسم کی ہنگامی صورتحال اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تسنیم علی خان نے کہا کہ 2022ءسے 2025ءکے دوران سول ڈیفنس نے سکولوں و کالجوں، صنعتی و تجارتی اداروں، سرکاری و نیم سرکاری محکموں اور عام شہریوں کو فائر سیفٹی، ریسکیو اور سول ڈیفنس کی تربیت فراہم کی۔اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 5,58,589 افراد کو تربیت دی گئی، جن میں 2,47,521 اسکولوں و کالجوں سے، 1,28,429 صنعتی و تجارتی شعبے سے، 41,789 سرکاری و نیم سرکاری محکموں سے، جبکہ 1,40,850 عام شہری شامل ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈائریکٹر سول ڈیفنس پنجاب نے کہا کہ امن کے دوران سول ڈیفنس مجموعی طور پر 12 خدمات سر انجام دیتا ہے جن میں، بم ڈسپوزل سروس ، ہینڈ گرینیڈز، خودکش جیکٹس وغیرہ کو ناکارہ بنانا۔ ای آئی ڈی اور دھماکوں سے متعلق خفیہ رپورٹس کی تیاری۔غیر پھٹے ہوئے بم کو ناکارہ بنانا۔وارننگ آپریشن سینٹرز (راولپنڈی اور سرگودھا) کا انتظام۔فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد اور ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (قاعدہ 9 اور 18، سول ڈیفنس خصوصی اختیارات قواعد 1951 )۔فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی۔سول ڈیفنس تنظیموں کا قیام، رضاکاروں (رضاکار فورس) کا اندراج اور تعیناتی۔سول ڈیفنس افسران کا ڈپٹی کمشنرز / کنٹرولرز سول ڈیفنس کے طور پر فرائض انجام دینا۔ڈپٹی کمشنرز کو تکنیکی مشاورت فراہم کرنا۔فرضی مشقیں، انخلائ، فائر سیفٹی، ابتدائی طبی امداد ، ریسکیو اور ایل پی جی کے محفوظ استعمال سے متعلق تربیت کا انعقاد۔ایل پی جی کی غیر قانونی ڈیکینٹنگ اور پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی فروخت کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سول ڈیفنس پنجاب شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ قدرتی آفات، ہنگامی حالات، آگ لگنے کے واقعات اور دیگر حادثات کے دوران سول ڈیفنس کے اہلکار فوری طور پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور متاثرہ افراد کو بروقت مدد فراہم کرتے ہیں۔سول ڈیفنس کادارہ عوام میں حفاظتی شعور اجاگر کرنے کیلئے مختلف اضلاع میں تربیتی ورکشاپس، سیمینارز اور آگاہی مہمات کا انعقاد بھی کرتا ہے۔ ان پروگراموں کے ذریعے شہریوں کو آگ سے بچاو¿، ابتدائی طبی امداد، زلزلے، سیلاب اور دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔شہری دفاع کے مراکز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے خصوصی فنڈز مختص کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، صنعتی اداروں اور سرکاری دفاتر میں سول ڈیفنس سے متعلق آگاہی پروگرام، فرضی مشقیں (موک ڈرلز) اور ہنگامی انخلا کی تربیت بھی باقاعدگی سے کروائی جارہی ہیں۔تاکہ شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال میں محفوظ انداز میں ردعمل دینے کے قابل ہو سکیں۔ نوجوانوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر سول ڈیفنس میں شامل کرنے کیلئے خصوصی مہم بھی شروع کی جا چکی ہے۔تسنیم علی خان نے کہا کہ جدید دور کے سکیورٹی چیلنجز، قدرتی آفات اور ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے سول ڈیفنس کا مضبوط اور فعال ہونا ناگزیر ہے۔ اسی مقصد کے تحت ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے، عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے اور دیگر امدادی اداروں کے ساتھ مو¿ثر رابطہ کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔کیونکہ شہری دفاع کا مو¿ثر نظام صرف جنگی حالات ہی نہیں بلکہ زلزلے، سیلاب، آگ لگنے، عمارتیں گرنے اور دیگر قدرتی یا انسانی ساختہ حادثات کے دوران بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے سول ڈیفنس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوام میں احساسِ تحفظ بھی فروغ پائیگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سول ڈیفنس کی جنگی مشقیں سال میں دو مرتبہ منعقد کی جاتی ہیں۔پاک۔بھارت تنازعہ 2025ءکے تناظر میں مئی تا جولائی 2025ءپنجاب کے تمام اضلاع میں فضائی حملہ انتباہ ، انخلائ، بلیک آو¿ٹ / روشنی پر پابندی اور دیگر جنگی مشقیں منعقد کی گئیں، جن میں PCDRC، پنجاب ایمرجنسی سروس ، پولیس، کاو¿نٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ، اسپیشل برانچ، محکمہ صحت، اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (HED) سمیت تمام متعلقہ اداروں نے شرکت کی۔عوامی تحفظ کی تربیت، انخلاءکی مشقیں اور فرضی ہنگامی مشقیں معمول کے مطابق باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سکولوں، کالجوں اور جامعات میں سول ڈیفنس کی تربیت9 دسمبر 2025ءسے PCDRC نے 1,981 تعلیمی اداروں (1,035 اسکول، 531 کالجز اور 79 جامعات) میں انخلاءکی مشقیں، فائر سیفٹی اور ریسکیو سے متعلق تربیتی پروگرام منعقد کئے۔ان پروگراموں کے ذریعے مجموعی طور پر 1,36,364 افراد، جن میں اساتذہ، طلبہ اور غیر تدریسی عملہ شامل ہے، کو تربیت فراہم کی گئی۔PCDRC نے سی ٹی ڈی، پولیس، پنجاب ایمرجنسی سروس اور دیگر شراکت دار اداروں کے اشتراک سے 967 فرضی ہنگامی مشقیں کامیابی سے منعقد کیں۔