پولیس تحفظ مراکز خواتین، بچوں اور خواجہ سراوں کیلئے نعمت

لاہور (مرزا ندیم بیگ) آئی جی پنجاب کی حکومت کو بھجوائی گئی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبہ بھر میں قائم تحفظ مراکز خواتین، بچوں اور خواجہ سراوں کو ایک ہی چھت تلے قانونی، سماجی، طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان مراکز کے قیام سے متاثرہ افراد کو مختلف سرکاری محکموں کے چکر لگانے کی بجائے ایک ہی مقام پر تمام ضروری سہولیات میسر آ رہی ہیں، جس سے مقدمات کے اندراج، تفتیش اور متاثرین کی بحالی کے عمل میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں قائم تحفظ مراکز میں گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، زیادتی، بچوں سے بدسلوکی، کم عمری کی شادی، اغوا، جسمانی تشدد، وراثتی تنازعات اور خواجہ سراو¿ں کے خلاف تشدد و ہراسانی سے متعلق کیس رپورٹ ہوئے۔ بیشتر متاثرین کو قانونی رہنمائی، ابتدائی طبی امداد، فرانزک سہولت، نفسیاتی مشاورت، شیلٹر، پراسیکیوشن اور پولیس معاونت ایک ہی مقام پر فراہم کی گئی،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحفظ مراکز میں پولیس، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ صحت، پراسیکیوشن، فرانزک ماہرین، سائیکالوجسٹ اور قانونی معاونین مشترکہ طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری اور موثر انصاف فراہم کیا جا سکے۔ خواتین اور بچوں کے بیانات دوستانہ ماحول میں ریکارڈ کیے جاتے ہیں جبکہ خواجہ سراوں کیلئے بھی امتیازی سلوک سے پاک سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد مقدمات میں بروقت قانونی کارروائی، شواہد کے فوری حصول اور متاثرین کی مسلسل رہنمائی کے باعث ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں بھی ہوئیں جبکہ کئی خاندانوں کو قانونی مشاورت اور کونسلنگ کے ذریعے مسائل کے حل میں مدد ملی،آئی جی پنجاب کی رپورٹ کے مطابق تحفظ مراکز کے عملے کی استعداد کار بڑھانے، جدید ڈیجیٹل ریکارڈنگ، کیس مانیٹرنگ، ویڈیو لنک سہولیات اور متاثرین کی رازداری کو مزید موثر بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ اس مقصد کیلئے عملے کی خصوصی تربیت بھی کرائی جا رہی ہے،پولیس حکام کے مطابق تحفظ مراکز کا بنیادی مقصد متاثرہ خواتین، بچوں اور خواجہ سراوں کو خوف سے آزاد ماحول میں فوری مدد فراہم کرنا اور انصاف تک ان کی رسائی آسان بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ضرورت کے مطابق مزید اضلاع میں بھی تحفظ مراکز کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں،رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ عوام میں تحفظ مراکز سے متعلق آگاہی مہم مزید موثر بنائی جائے تاکہ متاثرہ افراد بلا جھجھک ان مراکز سے رجوع کر سکیں اور انہیں بروقت قانونی و سماجی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔