ٹیکس نیٹ بڑھانے کی مہم، غیررجسٹرڈ کاروباروں کیخلاف کارروائیاں تیز

لاہور (رپورٹ: نعیم جاوید) پنجاب ریونیو اتھارٹی نے لاہور سمیت صوبے بھر میں غیر رجسٹرڈ اور ٹیکس چوری میں ملوث کاروباری اداروں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ادارے کی جانب سے ریسٹورنٹس، بیوٹی سیلونز، بیوٹی کلینکس، نجی ہسپتالوں، پراپرٹی ڈیلرز، مارکیز اور دیگر سروس سیکٹر کے کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے خصوصی سروے اور انسپکشن مہم جاری ہے۔ پی آر اے ذرائع کے مطابق لاہور میں اب بھی بڑی تعداد میں ایسے کاروبار موجود ہیں جو صوبائی سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں آنے کے باوجود رجسٹریشن نہیں کروا رہے یا اپنی اصل آمدن ظاہر نہیں کرتے اسی وجہ سے حکومت کو سالانہ اربوں روپے کے محصولات سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران لاہور کے مختلف علاقوں میں متعدد ریسٹورنٹس، بیوٹی سیلونز، جمالیاتی کلینکس اور فوڈ چینز کا ریکارڈ قبضے میں لیا گیا جبکہ کئی کاروباری اداروں کو ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ پی آر اے نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو سیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ پی آر اے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں 21 مختلف سروس سیکٹرز کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں غیر رجسٹرڈ کاروباروں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان میں ریسٹورنٹس، ہوٹل، گیسٹ ہاوسز، بیوٹی پارلرز، سیلونز، کلینکس، نجی ہسپتال، بلڈرز، رئیل سٹیٹ ایجنٹس، پراپرٹی ڈیلرز اور دیگر سروس فراہم کرنے والے ادارے شامل ہیں۔ ان شعبوں کا ڈیٹا ضلعی اور تحصیل سطح پر اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق لاہور میں ہزاروں کی تعداد میں بیوٹی سیلونز، پراپرٹی دفاتر اور نجی کلینکس کام کر رہے ہیں تاہم ان میں سے ایک قابل ذکر حصہ تاحال مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہو سکا۔ پی آر اے نے اس حوالے سے تازہ اور حتمی اعدادوشمار جاری نہیں کیے، البتہ ادارے نے تسلیم کیا ہے کہ بڑی تعداد میں بیوٹی کلینکس اور دیگر کاروبار غیر رجسٹرڈ یا غیر مطابقت رکھنے والے پائے گئے ہیں جنہیں رجسٹر کرنے کیلئے خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے وصولیوں کے حوالے سے پی آر اے حکام کا کہنا ہے کہ محصولات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران ادارے نے 220 ارب روپے سے زائد محصولات جمع کئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد زیادہ ہیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ ٹیکس نیٹ کی توسیع اور نادہندگان کے خلاف سخت کارروائیاں قرار دی جا رہی ہیں۔ لاہور میں ریسٹورنٹس کی نگرانی کیلئے الیکٹرانک انوائس مانیٹرنگ نظام بھی فعال ہے جس کے ذریعے متعدد فوڈ کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا۔ پی آر اے کا مو¿قف ہے کہ ہر صارف کو کمپیوٹرائزڈ یا برقی رسید حاصل کرنی چاہیے تاکہ ٹیکس چوری کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ پی آر اے کے ترجمان کے مطابق غیر رجسٹرڈ کاروباروں کی نشاندہی، رجسٹریشن اور ٹیکس وصولی کا عمل آئندہ بھی جاری رہے گا ان کا کہنا ہے کہ تمام کاروباری اداروں کو قانون کے مطابق رجسٹریشن کروا کر ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ ٹیکس چوری یا غلط اعدادوشمار فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی لاہور میں غیر رجسٹرڈ ریسٹورنٹس، بیوٹی سیلونز، نجی ہسپتالوں، پراپرٹی دفاتر اور دیگر کاروباروں کی درست تعداد سرکاری طور پر جاری نہیں کی، تاہم ادارہ تسلیم کرتا ہے کہ ان شعبوں میں بڑی تعداد اب بھی مکمل ٹیکس نیٹ سے باہر ہے اور انہیں رجسٹر کرنے کیلئے خصوصی مہم جاری ہے۔