اسلام آباد:(بیورورپورٹ)ایران امریکہ تنازع روکنا اہم ترجیح ،پاکستان مصالحتی کردار جاری رکھے گا،دفتر خارجہ نے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی ۔
رپورٹ میں فوری و طویل مدتی معاشی و ساختی اثرات سے نمٹنے کی پیشگی تیاری ضروری قرار دیتے ہوئے کہا گیاجنگ بندی و ثالثی کوششوں نے ملکی سیاسی و سفارتی ساکھ کومضبوط کیا،پاکستان کے کردار کو ایران سمیت خلیجی ممالک ،خطے بھر میں سراہا گیا۔
دفتر خارجہ نے کہا پاکستان خطے میں امن و استحکام کےلئے ثالث کا کردار جاری رکھے گا،ہر ممکن کوشش ہے تنازع کا مزید پھیلاو روکا جائے،امریکہ، اسرائیل ،ایران تنازع سے خطے کی سیاسی و معاشی صورتحال تبدیل،حالیہ پیش رفت نے ایران کی داخلی سیاست اور خلیجی تعاون کونسل کو نئی شکل دی،خلیجی ممالک اب اپنی معاشی و سکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی کرسکتے ہیں،اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم بھی دنیا کے سامنے مزید واضح ہوگئے،آبنائے ہرمز کی صورتحال خطے کے سیاسی و معاشی منظرنامے پر اثر انداز ہو گی۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں تجارتی راستوں کی ازسرنو تشکیل کا امکان ہے،موجودہ سفارتی و سیاسی پیشرفت کو دیرپا شراکت داریوں میں بدلا جائےگا،خطے میں پاکستان کے سیاسی و سکیورٹی تعاون میں اضافے کے امکانات ہیںابھی تک ترسیلات زر یا بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی پر فوری اثرات سامنے نہیں آئے،بحران طویل ہوا تو بیرون ملک پاکستانیوں، تجارت و معیشت پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں،دوبارہ کشیدگی شروع ہوئی تو پاکستان اور پورے خطے پر گہرے اثرات ہوں گے۔
ایران امریکہ تنازع روکنا اہم ترجیح ،پاکستان مصالحتی کردار جاری رکھے گا،دفتر خارجہ


















