جامعات علم کی تخلیق، فکری ترقی کے مراکز ہیں: قائم مقام صدر لاہور چیمبر

لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر تنویر احمد شیخ نے کہا ہے کہ چیمبر تعلیمی شعبے، اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے، اسٹارٹ اپس اور نوجوان کاروباری افراد کی معاونت اور جامعات کے ساتھ قریبی روابط کے ذریعے طلبہ کیلئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر نے متعدد اقدامات کا آغاز کیا ہے، جن میں “ون ڈے، ون یونیورسٹی” پروگرام بھی شامل ہے، جس کے تحت مختلف جامعات کو کاروباری برادری کے ساتھ تبادلہ خیال کیلئے مدعو کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیمبر تعلیمی اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر بھی دستخط کر رہا ہے تاکہ اکیڈمیا اور چیمبر کے ہزاروں اراکین کے درمیان روابط کو فروغ دیا جا سکے۔ ساتھ ہی بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند طلبہ کو تعلیمی مشیروں کے تعاون سے سہولتیں فراہم کرنے کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پنجاب یونیورسٹی کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی قیادت ڈائریکٹر آئی ای ای سی ای اور کنوینر جے اے سی پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد اور چیئرمین جے اے سی پروفیسر ڈاکٹر سردار اصغر اقبال کر رہے تھے۔ وفد میں پروفیسر ڈاکٹر کامران مرزا، پروفیسر ڈاکٹر مقیت جاوید بھٹی، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن خان نیازی، ڈاکٹر مجید علی، محمد تنویر اعوان، عثمان جٹ، طیب اعجاز اور بشارت محمود شامل تھے۔ اس موقع پر ایل سی سی آئی کے عہدیداران اور اراکین میں علینہ ندیم، لالہ یاسر، آغاز الفکر اور دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر کامران عابد نے اکیڈمیا اور صنعت کے درمیان روابط استوار کرنے کیلئے چیمبر کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ تعلیم اور کاروبار عوامی پالیسی اور قومی ترقی کے ذریعے ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات علم کی تخلیق، جدت طرازی اور فکری ترقی کے مراکز ہیں، اس لیے انہیں ایسا ماحول درکار ہے جہاں مکالمہ، علمی آزادی اور اظہارِ رائے کی آزادی کو فروغ حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ علمی مباحث پر پابندیاں علم کی تخلیق کے عمل کو متاثر کرتی ہیں اور تعلیمی اداروں کو کمزور بناتی ہیں۔ ڈاکٹر کامران عابد نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں تدریسی عملے، طلبہ، ملازمین اور افسران کو اظہارِ رائے کی آزادی، انجمن سازی کی آزادی اور ادارہ جاتی نظم و نسق سے متعلق خدشات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن اور دیگر نمائندہ اداروں کی ایک طویل تاریخ ہے اور انہیں موثر انداز میں کام کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ انہوں نے سینیٹ، سنڈیکیٹ، اکیڈمک کونسل، سلیکشن بورڈز اور فنانس کمیٹی سمیت قانونی اداروں کے اجلاسوں میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ادارے شفافیت، احتساب اور تعلیمی نظم و نسق کے مو¿ثر نظام کیلئے انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سے قبل تنویر احمد شیخ نے پنجاب یونیورسٹی کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے لاہور چیمبر کو ملک کا ممتاز ترین چیمبر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر کاروباری برادری اور حکومتی اداروں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے، کاروباری طبقے کو درپیش مسائل کو متعلقہ فورمز پر اٹھاتا ہے اور معاشی ترقی کیلئے پالیسی اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ایل سی سی آئی قیادت نے کاروباری امور کے ساتھ ساتھ تعلیمی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دینے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے کیونکہ تعلیم اور کاروباری صلاحیتوں میں سرمایہ کاری ملک کے مستقبل کیلئے ناگزیر ہے۔ معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے تنویر احمد شیخ نے کہا کہ کاروباری طبقہ اب بھی کاروبار کرنے کی لاگت، ٹیکسوں، بجلی کے نرخوں اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دستاویزی معیشت سکڑ رہی ہے جبکہ غیر دستاویزی معیشت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کیلئے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے جس میں فیصلہ سازی عوام کے قریب ہو، خواہ یہ مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے ہو یا انتظامی اصلاحات کے ذریعے جو عوام کو خدمات اور انصاف تک بہتر رسائی فراہم کر سکیں۔ ڈاکٹر کامران عابد نے مزید کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں انتظامی امور سے متعلق بعض مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق مختلف قانونی اداروں کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہونا ضروری ہیں، لیکن ان میں تاخیر کے باعث ادارہ جاتی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمک کونسلز، سنڈیکیٹس اور فنانس کمیٹیاں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے اور تعلیمی و انتظامی معاملات کی نگرانی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے قواعد و ضوابط کی پابندی، میرٹ پر مبنی فیصلوں اور زیادہ ادارہ جاتی شفافیت پر زور دیا تاکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنایا جا سکے اور یونیورسٹی کے علمی مشن کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔