لاہور(قاضی ندیم اقبال /عکاسی : میاں شاہنواز)خطیب جامع مسجد داتا دربار/صوبائی خطیب اوقاف و مذہبی امور پنجاب مولانا مختار احمد ندیم نے کہا ہے کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں۔دین اسلام میں احترام انسانیت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے قیام کے حوالے سے تمام مسالک کے علماءمشائخ حکومت کے دست و بازو کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں،کسی کے مسلک کو چھیڑو نہیں کی پالیسی پر عملدرآمد وقت کی ضرورت ہے۔پاکستان کے قیام اور اس کے استحکام میں علمائے کرام اور دینی شخصیات کا کردار ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ وطن عزیز کے معروضی حالات میں علماءکرام اور مذہبی و دینی شخصیات قومی یکجہتی ، ملکی استحکام، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مجموعی امن وامان کیلئے ہمیشہ کی طرح اپنا اساسی اور کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اداکرتے رہیں گے۔محرم الحرام 1448 ھ کے دوران محکمہ داخلہ پنجاب اور محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے زیر اہتمام ڈویڑنل ہیڈ کوارٹرز پر علماءمشائخ کے بھجوائے گئے وفود نے بے مثال کام کیا۔تمام مسالک کے علماءمشائخ ملک میں مذاہب کے نام پر دہشت گردی اور قتل وغارت گری کو خلاف اسلام سمجھتے اوراس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ اس امر کا اظہار انہوں نے ”مشرق“ دورہ کے موقع پرمنیجنگ ایڈیٹرچوہدری اشرف اور گروپ ایڈیٹر اشرف سہیل سے دوران ملاقات کیا۔ مولانا مختار احمد ندیم نے کہا کہ برصغیر پاک و ہند میں دین ِ اسلام کی اشاعت و ترویج میں اولیائے کرام کی خدمات نہایت اہم، مو¿ثر اور ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے اپنے اعلیٰ اخلاق، تقویٰ، محبت، رواداری اور خدمت خلق کے ذریعے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کیا۔اولیائے کرام نے محبت، امن، برداشت اور بھائی چارے کا درس دیا، جس سے معاشرے میں ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ ملا۔برصغیر میں حضرت سید علی بن عثمان الہجویری، حضرت خواجہ معین الدین چشتی، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر، حضرت نظام الدین اولیائ، حضرت بہاو¿الدین زکریا، حضرت لال شہباز قلندر اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی جیسے بزرگوں نے اپنی تبلیغی اور اصلاحی خدمات کے ذریعے اسلام کی روشنی کو دور دراز علاقوں تک پہنچایا۔ ان کی تعلیمات نے لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت، رسولِ اکرم کی اتباع اور انسانی خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔اولیائے کرام نے تعلیم، عبادت، ذکر الٰہی اور اخلاق حسنہ کو اپنی دعوت کا بنیادی ذریعہ بنایا۔ انہوں نے معاشرتی برائیوں، ظلم، تعصب اور نفرت کے خلاف آواز بلند کی اور عدل، مساوات اور انسان دوستی کی تعلیم دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی خدمات کا اثر آج بھی برصغیر کے معاشرے میں نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ خطیب جامع مسجد داتا دربار نے کہا کہ تصوف اسلام کی روحانی روایت کا وہ پہلو ہے جس کا بنیادی مقصد انسان کے ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن کی اصلاح، اللہ تعالیٰ کی محبت، اخلاص، تقویٰ اور اخلاقِ حسنہ کا حصول ہے۔ تصوف انسان کو نفس کی برائیوں، جیسے تکبر، حسد، لالچ اور ریا سے پاک کرنے اور صبر، شکر، توکل، محبت اور عاجزی جیسی صفات اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ صوفیہ کے نزدیک شریعت، طریقت، معرفت اور حقیقت ایک دوسرے سے مربوط مراحل ہیں، اور حقیقی تصوف وہی ہے جو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہو۔تصوف کی ابتدا عہد نبوی اور صحابہ کرام کی سادہ، زاہدانہ اور عبادت گزار زندگی سے ہوئی۔ بعد میں مختلف صوفی بزرگوں نے اس روحانی روایت کو منظم انداز میں بیان کیا۔ تصوف کا اصل مقصد دنیا سے فرار اختیار کرنا نہیں بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا، بندگی اور مخلوقِ خدا کی خدمت کو اپنی زندگی کا محور بنانا ہے۔ کشف المحجوب، تصوف کی ایک نہایت اہم اور مستند فارسی کتاب ہے، جسے حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش نے تصنیف کیا۔ یہ برصغیر میں تصوف پر لکھی جانے والی اولین اور معتبر کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، اخلاقی اور روحانی زندگی کیلئے جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام کا بنیادی پیغام اللہ تعالیٰ کی وحدانیت (توحید) پر ایمان لانا اور حضرت محمد کو اللہ کے آخری رسول ماننا ہے۔ اسلام انسان کو سچائی، انصاف، محبت، رحم، برداشت اور اخوت کی تعلیم دیتا ہے تاکہ معاشرے میں امن اور خوشحالی قائم ہو۔آج کے دور میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب اپنے عقائد سے دستبردار ہونا نہیں بلکہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ احترام، برداشت، انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ رہنا ہے۔ اسلام اختلافِ عقیدہ کے باوجود امن، باہمی تعاون اور انسانی بھلائی کے کاموں میں شرکت کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہولہٰذا ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک، دیانتداری، عدل اور احترام کا رویہ اختیار کرے، ان کے حقوق کا خیال رکھے اور معاشرے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ یہی طرزِ عمل اسلام کی حقیقی تعلیمات اور سیرتِ نبوی کا عملی تقاضا ہے، جو ایک پرامن، منصفانہ اور باوقار معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں خطیب جامع مسجد داتا دربار نے کہا کہ تصوف انسان کی روحانی پاکیزگی، اخلاقی بلندی اور اللہ تعالیٰ کی قربت کا راستہ ہے، جبکہ کشف المحجوب اس موضوع پر ایک جامع اور مستند کتاب ہے۔ یہ کتاب نہ صرف تصوف کے نظریاتی پہلوو¿ں کو واضح کرتی ہے بلکہ عملی زندگی میں اسلامی اخلاق، عبادت، اخلاص اور شریعت کی پابندی کی اہمیت بھی اجاگر کرتی ہے۔ اسی وجہ سے کشف المحجوب آج بھی تصوف کو سمجھنے اور اس کی صحیح روح سے واقف ہونے کیلئے ایک بنیادی ماخذ سمجھی جاتی ہے۔
مذاہب کے نام پر دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں: مولانا مختار احمد ندیم


















