ریلوے سٹیشن ترقیاتی منصوبہ ناکامی کا شکار،سڑکوں پر کئی کئی فٹ پانی

لاہور (سٹاف رپورٹر) ریلوے سٹیشن لاہور رینیویشن منصوبے میں سامنے آنے والی سنگین خامیوں پر تاجروں کے تحفظات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ حالیہ بارشوں کے بعد کئی گھنٹوں تک سڑکوں پر پانی جمع رہنے اور تجارتی مراکز و ہوٹلوں کے تہہ خانوں میں پانی داخل ہونے کے واقعات کے بعد لاہور ہوٹلز اینڈ ٹورزم ایسوسی ایشن ریلوے سٹیشن زون نے حکومت پنجاب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود منصوبہ شہریوں اور تاجروں کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق بارش کا پانی نکالنے کیلئے بنائے گئے نظام نے عملی طور پر کام نہیں کیا، جس کے باعث پورا علاقہ گھنٹوں زیرِ آب رہتا ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ عہدیداران نے کہا کہ ریلوے سٹیشن اور گردونواح کا سیوریج سسٹم کئی دہائیوں پرانا ہے، مگر ایل ڈی اے نے بنیادی مسئلہ حل کرنے کے بجائے صرف ظاہری خوبصورتی پر توجہ دی۔ اگر پہلے سیوریج لائنوں کی تبدیلی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جاتا تو آج تاجروں کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ منصوبے میں تعمیراتی معیار بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کئی مقامات پر فٹ پاتھوں کے نیچے سے ریت بہہ رہی ہے، جس سے تعمیرات کی مضبوطی پر بھی شکوک پیدا ہو گئے ہیں، جبکہ بارش کا پانی تجارتی عمارتوں اور ہوٹلوں کے تہہ خانوں میں داخل ہو کر لاکھوں روپے کے نقصانات کا سبب بن رہا ہے۔ لاہور ہوٹلز اینڈ ٹورزم ایسوسی ایشن ریلوے سٹیشن زون نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر ریلوے سٹیشن اور اس کے اطراف کا دورہ کریں، منصوبے کا اعلیٰ سطحی تکنیکی آڈٹ کرائیں، ناقص منصوبہ بندی اور غیر معیاری تعمیرات کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور نکاسی آب کے نظام کو فوری طور پر ازسرنو تعمیر کیا جائے تاکہ آئندہ بارشوں میں شہریوں، مسافروں اور تاجر برادری کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اگر صورتحال جوں کی توں رہی تو تاجر برادری آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے پر مجبور ہوگی، کیونکہ موجودہ حالات میں کاروبار جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہاہے۔