اسلام آباد: (بیورورپورٹ) شناختی کارڈ زندگی کی بنیادی ضرورت، کوئی عدالت بلاک نہیں کر سکتی،سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا حکم غیر قانونی قرار دے دیا۔
جسٹس منیب اختر نے 3صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں، عام زندگی گزارنے کےلئے بنیادی ضرورت ہے، کیا کل عدالتیں رقم کی واپسی کےلئے بجلی و پانی کے کنکشن کاٹنے کا حکم بھی دیں گی؟۔
فیصلے میں کہا گیا کسی شہری کو شناختی کارڈ سے محروم کرنا زندگی کا بنیادی حق چھیننے کے مترادف ہے، ضابطہ دیوانی کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں، پشاور ہائیکورٹ کی سی پی سی میں کی گئی ترمیم کا اطلاق صوبہ سندھ پر نہیں ہوتا،قانون میں واضح حکم کے بغیر کوئی بھی عدالت کسی کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کر سکتی۔
شناختی کارڈ زندگی کی بنیادی ضرورت، کوئی عدالت بلاک نہیں کر سکتی، سپریم کورٹ



















