بنوں ،سکیورٹی فورسز کے قافلے پرحملہ، لیفٹیننٹ کرنل ،سپاہی شہید،5خوارج ہلاک


بنوں، اسلام آباد: (مشرق نیوز+ بیورو رپورٹ) بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ،لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید ،آپریشن میں5خوارج کو جہنم واصل کردیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران خوارج کا سراغ لگا کرگاڑی میں سوار خودکش بمبار کو بروقت روکا تو دہشتگردنے مایوسی میں بارود سے بھری گاڑی اگلے دستے سے ٹکرادی، لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوگئے، دہشتگرد بنوں شہر میں معصوم شہریوں ،قانون نافذ کرنےوالے اہلکاروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا،بڑا سانحہ بچالیا،سکیورٹی فورسز نے شدید فائرنگ کے تبادلے میں5خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہاطالبان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کےخلاف دہشتگردی کےلئے استعمال سے روکنے میں ناکام ہے،پاکستان کسی قسم کا ضبط و تحمل نہیں برتے گا اور گھناونے ،بزدلانہ فعل کے ذمہ داروں کےخلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ خوارج کو قرار واقعی سزا دی جا سکے،ماہ رمضان کے تقدس کے پامال سے واضح دہشتگردوںکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں،سکیورٹی فورسز کی عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، بہادر سپاہیوں کی قربانیاں عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

دریں اثنا صدر،وزیراعظم، وزیر داخلہ ودیگر رہنماﺅں نے شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا فتنہ الخوارج کےخلاف آپریشنز بلا امتیاز اور بھرپور قوت سے جاری رہیں گے ،قوم کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شہر کو بڑے نقصان سے بچایا،پوری قوم افواج کےساتھ کھڑی ہے، ہر قسم کی دہشتگردی کامکمل خاتمہ کریں گے۔

دوسری جانب بنوں میں پاک فوج کی گاڑی پر خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان سے جا ملے، ذمہ داری فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ اتحاد المجاہدین نے قبول کرلی۔

رپورٹ کے مطابق اتحاد المجاہدین کا تعلق فتنہ الخوارج کے حافظ گل بہادر گروپ سے ہے، گروہ کا مرکزی سرغنہ گل بہادر ودیگر دہشتگرد افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں، حافظ گل بہادر گروپ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی و فتنہ انگیزی میں ملوث ہے،گروہ پہلے بھی متعدد حملوں میں ملوث رہا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق حافظ گل بہادر سمیت فتنہ الخوارج کے مرکزی سرغنہ کی کابل میں موجودگی افغان سرزمین کے دہشتگردی کیلئے استعمال کا ثبوت ہے، دہشتگردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں،دہشتگردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد عناصر افغان نژاد یا افغانستان سے مربوط نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے ہیں، طالبان رجیم کی سرپرستی خطے میں امن کوششوں کو مسلسل سبوتاژ کر رہی ہے۔