لاہور (قاضی ندیم اقبال) پنجاب حکومت نے صوبے کی تمام جیلوں میں سکیورٹی، نگرانی اور انتظامی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ”سیف جیلز پراجیکٹ“ شروع کر دیا جس کے تحت آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور فیشل ریکنائزیشن ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے۔ اس منصوبے پر تقریباً 5 ارب روپے سے زائد لاگت آئیگی اور اس کا مقصد جیلوں کو جدید ڈیجیٹل نگرانی کے نظام سے آراستہ کرنا ہے۔ ابتدائی طور پر پہلے مرحلے میں تمام ہائی پروفائل اور سنٹرل جیلوں میں یہ منصوبہ مکمل کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق منصوبے کے تحت پنجاب کی تمام جیلوں میں مرحلہ وار 12 ہزار سے زائد جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے، جو مصنوعی ذہانت سے لیس ہوں گے اور چہروں، گاڑیوں اور مشکوک حرکات کی شناخت کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اس کے علاوہ 41 فیشل ریکنائزیشن سسٹمز، 41 ایکس رے باڈی اسکینرز، 615 پنک بٹن، 328 باڈی کیمرے، 615 واکی ٹاکی سسٹمز، 24 ویڈیو کانفرنسنگ سسٹمز، 133 سافٹ ویئر ماڈیولز اور 51 کنٹرول رومز بھی قائم کیے جائیں گے۔محکمہ داخلہ پنجاب کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق جدید AI نظام جیلوں میں قیدیوں اور عملے کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے گا۔ اگر کوئی قیدی ممنوعہ مقام پر جائے، جیل کی دیوار پھلانگنے کی کوشش کرے، غیر قانونی سرگرمی یا ہنگامہ آرائی ہو تو سسٹم خودکار طور پر الارم جاری کرے گا۔ اسی طرح قیدیوں، ملازمین اور آنے والے افراد کی شناخت فیشل ریکنائزیشن کے ذریعے ممکن ہوگی، جبکہ وزیٹر مینجمنٹ سسٹم ہر آنے جانے والے شخص کا ریکارڈ محفوظ کرے گا۔اس منصوبے کا ایک اہم مقصد جیلوں میں منشیات، موبائل فون اور دیگر ممنوعہ اشیا کی اسمگلنگ کی روک تھام بھی ہے۔ جدید اسکینرز، نگرانی کے نظام اور مربوط ڈیٹا بیس کے ذریعے قیدیوں، عملے اور گاڑیوں کی مو¿ثر جانچ کی جا سکے گی۔ منصوبے کو پولیس، پراسیکیوشن اور عدلیہ کے متعلقہ ڈیٹا سے بھی منسلک کیا جائے گا تاکہ معلومات کا بروقت تبادلہ ممکن ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے سے جیلوں کی سیکیورٹی میں نمایاں بہتری آئے گی، فرار، ہنگامہ آرائی اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ممکن ہوگی، جبکہ قیدیوں کی درجہ بندی، نگرانی اور انتظامی امور بھی زیادہ موثر انداز میں انجام دیے جا سکیں گے۔ منصوبے کیلئے نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) سے معاہدہ کیا گیا ہے اور اس میں پانچ سالہ آپریشن اور مینٹیننس بھی شامل ہے۔ حکومت نے ہدف مقرر کیا ہے کہ یہ منصوبہ مرحلہ وار صوبے کی تمام جیلوں میں مکمل طور پر نافذ کیا جائے تاکہ جیلوں کو جدید، محفوظ اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحی مراکز میں تبدیل کیا جا سکے۔
سکیورٹی، نگرانی اور نظام کی بہتری کیلئے پنجاب حکومت کا ”سیف جیلز پراجیکٹ“ شروع


















