اسلام آباد: (بیورورپورٹ) بیوی کو قتل کرنےوالے منشیات کے عادی شوہر کی اپیل خارج ،سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں۔
جسٹس صلاح الدین پنہور ،اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بنچ نے قاتل شوہر وارث مسیح کی عمر قید سزا کا فیصلہ برقرار رہا، فیصلے کے مطابق معاشرے کی برابر رکن خواتین تحفظ، احترام ،وقار کی حقدار ہیں،خواتین کےساتھ معمولی باتوں پر جانوروں جیسا سلوک اور بہیمانہ تشدد کیا جا رہا ہے ،منشیات کی لت خواتین پر ہونےوالے وحشیانہ تشدد کی بڑی وجہ ہے،کسی کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کا مقدس رشتہ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ریاست جامع قانون سازی، نفاذ کے طریقہ کار اور معاون پروگراموں کے ذریعے خواتین پر ہونےوالے ظلم کو روکے،خواتین کا تحفظ آئین کے آرٹیکل 9 حق زندگی و آزادی اور آرٹیکل 25 برابری کے تحت ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹنے ، دماغی چوٹوں کی وجہ سے ہوئی ، بیوی گھر کے اندر ماری جائے تو حالات کی وضاحت کرنے کی بنیادی ذمہ داری شوہر پر عائد ہوتی ہے تاہم ملزم ٹرائل کے دوران خاموش رہا اور بیوی کی غیر فطری موت کی کوئی معقول وجہ پیش نہ کر سکا،ملزم کا وقوعہ کے بعد فرار ، تدفین میں عدم شرکت اور پولیس کو اطلاع نہ دینا سنگین شواہد ہیں۔
شوہر مجرم کی اپیل خارج ،مرد عورتوں کے محافظ ہیں، قاتل نہیں، سپریم کورٹ



















