اسلام آباد (مشرق نیوز) سپریم کورٹ نے شوگر ملز پر جرمانوں کے کیس میں مسابقتی کمیشن کی نظرثانی درخواستیں بھی خارج کردیں۔ فیصلے میں مبینہ غلطی درست کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ قرار دیا کہ معاملہ ٹریبونل کو بھیجنا کوئی غلطی نہیں بلکہ شعوری عدالتی فیصلہ ہے۔ زبانی اتفاق رائے کی بنیاد پر فیصلہ نہیں بدلا جاسکتا۔
سپریم کورٹ نے ایپلیٹ ٹربیونل کو 90 روز میں فریقین کو سن کر فیصلہ کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے۔ جسٹس شکیل احمد نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ فریقین کے زبانی اتفاق رائے کے باوجود معاملہ غلط فورم کو بھیجا گیا۔ سپریم کورٹ نے مبینہ زبانی اتفاق رائے کی بنیاد پر فیصلہ بدلنے کی استدعا مسترد کردی۔
عدالت نے قرار دیا کہ عدالتیں تحریری فیصلوں سے بولتی ہیں،زبانی یا مبینہ مفاہمت کی قانونی حیثیت نہیں، سپریم کورٹ نے چیئرپرسن مسابقی کمیشن کا ووٹ دینا آئین کے آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی قرار دیا۔
فیصلے کے مطابق جب مخالف فریق اتفاق رائے سے انکار کر دے تو زبانی دعوے پر نظرثانی ممکن نہیں، مسابقتی کمیشن کے 4 رکنی بینچ میں شوگر ملز کے خلاف کارروائی پر برابر تقسیم سامنے آئی تھی۔ چیئرپرسن نے ڈیڈلاک ختم کرنے کیلئے اپنا کاسٹنگ ووٹ استعمال کرتے ہوئے جرمانے عائد کئے جبکہ شوگر ملز کی اپیل پر ٹربیونل نے چیئرپرسن کا ووٹ غیرقانونی قرار دیکر واپس کمیشن کو بھیجا تھا۔
عدالتیں تحریری فیصلوں سے بولتی ، زبانی یا مبینہ مفاہمت قبول نہیں:عدالت عظمیٰ



















