لاہور (مرزا ندیم بیگ) چکوال میں آسٹریلوی نژاد پاکستانی بچی ہانیہ احمد کی ہلاکت کے افسوسناک واقعہ کے بعد پنجاب پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے کارروائی کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیوں کا عمل شروع کردیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے نئے آپریشنل رہنما اصول تیار کئے گئے ہیں اور لاہور پولیس سمیت متعلقہ یونٹس کو ان پر سختی سے عملدرآمد کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق نئے ایس او پیز کے تحت کسی بھی مشتبہ گاڑی پر براہِ راست فائرنگ کے بجائے پہلے شناخت، تعاقب، ناکہ بندی اور دیگر محفوظ طریقہ کار اختیار کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اہلکاروں کو انسانی جانوں کے تحفظ، طاقت کے محدود استعمال اور جدید آپریشنل ٹریننگ پر خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔ واقعہ کی تحقیقات کے دوران خود سی سی ڈی حکام نے بھی تسلیم کیا کہ چکوال آپریشن میں مقررہ ایس او پیز پر عمل نہیں کیا گیا تھا جس کے باعث ایک معصوم بچی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔دوسری جانب مقدمے میں نامزد برطرف کانسٹیبل ناصر (یا متعلقہ ملزم اہلکار) کے خلاف ٹرائل کی کارروائی بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق جیو فینسنگ، موبائل فون ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج، اسلحہ کا فرانزک معائنہ، جائے وقوعہ سے ملنے والے خول اور دیگر سائنسی شواہد چالان کا حصہ بنائے جا رہے ہیں تاکہ عدالت میں مضبوط استغاثہ پیش کیا جا سکے۔تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹس کی تکمیل میں تاخیر کے باعث چالان کی تیاری بھی متاثر ہوئی، تاہم شواہد مکمل ہوتے ہی تفتیش کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ پولیس کا مو¿قف ہے کہ تمام سائنسی شہادتوں، جیو فینسنگ ڈیٹا اور گواہوں کے بیانات کو قانونی تقاضوں کے مطابق مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ مقدمہ مضبوط بنیادوں پر عدالت میں پیش کیا جا سکے۔آئی جی پنجاب اور ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعہ میں ملوث کسی بھی اہلکار کو رعایت نہیں دی جائے گی، جبکہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی شفاف انداز میں تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کے بعد ایس او پیز پر نظرثانی، اہلکاروں کی ریفریشر ٹریننگ اور آپریشنل نگرانی کا نظام مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
سانحہ چکوال کے بعد پولیس اور سی سی ڈی کی کارروائیوں میں اہم تبدیلیوں کا عمل شروع


















