پنجاب، سرکاری اداروں کو 6 مختلف سیکٹرز میں تقسیم کر کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنیکی تجویز

لاہور(قاضی ندیم اقبال)حکومت پنجاب نے آئندہ مالی سال 2026-27ءکے دوران سرکاری اداروں کو 6 مختلف سیکٹرز میں تقسیم کر کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز دیدی۔ سوشل سیکٹر میں 14 صوبائی ادارے، انفراسٹرکچر سیکٹر میں 4 سرکاری ادارے ، پروڈکشن سیکٹر میں7 ادارے ،کلائمیٹ اینڈ اکالوجی سیکٹر میں 3صوبائی ادارے ،سروسز سیکٹر میں4سرکاری ادارے جبکہ گورنس ، لاءاینڈ آرڈر سیکٹرمیں13 صوبائی ادارے شامل ہیں۔پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے مرتب کردہ دستاویزات کی روشنی میں آئندہ مالی سال کے دوران سوشل سیکٹر کے ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 333.660 ملین روپے تجویز کیا گیا ہے جس میں سے سکولز ایجوکیشن کیلئے 25,300ملین روپے، ہائر ایجوکیشن کیلئے 30,500ملین روپے،سپیشل ایجوکیشن کیلئے 3,700ملین روپے،لٹریسی اینڈ نان فارمل ایجوکیشن کیلئے 3,800ملین روپے، سپورٹس اینڈ یوتھ افئیرز کیلئے 5,500ملین روپے،سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کیلئے 43,100ملین روپے،ہیلتھ اینڈ پاپولیشن کیلئے 33,200ملین روپے،ایمرجنسی سروسز ریسکیو(1122)کیلئے 800ملین روپے، سوشل ویلفیئر کیلئے 2,000ملین روپے،ویمن ڈیپارٹمنٹ کیلئے 2,500ملین روپے،لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کیلئے 115,500ملین روپے،اوقاف و مذہبی امور کیلئے 2,000ملین روپے،ہیومن رائٹس اینڈ مینارٹیز افیئرز کیلئے 3,000ملین روپے جبکہ واٹسن کیلئے 62,760 ملین روپے تجویز کیاکیا ہے۔انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیکٹر کے ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 117,240 ملین روپے تجویز کیا گیا ہے۔ جس میں سے مواصلات و تعمیرات کیلئے 74,100ملین روپے،آبپاشی کیلئے 30,000ملین روپے، انرجی کیلئے 4,300ملین روپے اور ہاﺅسنگ اریب ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کیلئے 8,840 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پروڈکشن سیکٹر کے ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 103,250ملین روپے تجویز کیا گیا ہے۔جس میں سے زراعت کیلئے 60,000ملین روپے،فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کیلئے 900ملین روپے،لائیو سٹاک اینڈ دیری ڈویلپمنٹ کیلئے 6,750ملین روپے،انڈسٹریز، کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کیلئے 16,650ملین روپے،سکلز ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرپینورشپ کیلئے 12,560ملین روپے،مائنز اینڈ منرلز کیلئے 390ملین روپے جبکہ سیاحت، آثار قدیمی اور میوزیم کیلئے 6,000ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔کلائمیٹ اینڈ اکالوجی سیکٹرکے ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم38,820 ملین روپے تجویز کیا گیا ہے۔ جس میں سے ماحولیات اینڈ کلائمیٹ چینج کیلئے 15,420 ملین روپے،ایکوا لچر اینڈ فشریز کیلئے 15,300ملین روپے، اور جنگلات و وائلڈ لائف کیلئے 8,100ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔سروسز سیکٹر کیلئے ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 86,080ملین روپے تجویز کیاگیا ہے۔ جس میں سے لیبر اینڈ ہیومن رائنٹس ڈیپارٹمنٹ کیلئے 630 ملین روپے،ٹرانسپورٹ کیلئے 78,500ملین روپے،کوآپریٹوز کیلئے 250ملین روپے،جبکہ انفارمیشن اینڈ کلچرکیلئے 6,700ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے مرتب کردہ دستاویزات کی روشنی میں گورنس، لاءاینڈ آرڈر سیکٹر کے ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 72, 950 ملین روپے تجویز کیا گیا ہے۔جس میں سے پولیس کیلئے 12,880 ملین روپے،داخلہ کیلئے 2,000ملین روپے، جوڈیشری کیلئے 3,000ملین روپے،لاءاینڈ پارلیمنٹری افیئرز کیلئے 2,200ملین روپے،پبلک پراسیکیوشن کیلئے 830ملین روپے،مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ کیلئے 100ملین روپے،بورڈ آف ریونیو کیلئے 18,950 ملین روپے،صوبائی اسمبلی کیلئے 1,060 ملین روپے،سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کیلئے 3,120 ملین روپے،انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کیلئے 830 ملین روپے،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کیلئے 200ملین روپے، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کیلئے 25,350 ملین روپے جبکہ خزانہ کیلئے 2,430 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔