پرامن جوہری پروگرام پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے: ایرانی قونصل جنرل

لاہور (سٹاف رپورٹر) لاہور میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل مہران مواحد فر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کے استعمال پر کبھی بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کریگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے رہبرِ معظم کی جانب سے جاری کردہ شرعی فتوے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ایٹم بم) کی تیاری کو واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یونیورسٹی آف ساوتھ ایشیا کے دورے کے موقع پر ڈیینز، ڈائریکٹرز، سربراہان شعبہ جات اور فیکلٹی ممبران سے ایک اہم خطاب کے دوران کیا۔ ایرانی قونصل جنرل نے یہ دورہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر میاں عمران مسعود کی خصوصی دعوت پر کیا۔ تعلیمی برادری سے خطاب کرتے ہوئے مہران مواحد فر نے عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے ”انتہائی اہم اور بے مثال“ کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرانے اور تاریخی ”اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت “کو طے کرانے میں پاکستان نے بنیادی ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ ایرانی قونصل جنرل نے تنازع کے خاتمے کیلئے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی، تزویراتی اور فوجی قیادت نے یکسوئی کے ساتھ کام کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے اس انتہائی سنگین تنازع کو پرامن حل کی طرف موڑنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان ثقافتی اور نظریاتی رشتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے قونصل جنرل نے کہا کہ ایران کے بانیِ انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی، پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال کے سچے مداحوں میں سے تھے، جن کا فارسی کلام اور فلسفہ آج بھی تہران اور اسلام آباد کے درمیان ایک فکری پل کا کام کر رہا ہے۔ معزز مہمان کا استقبال کرتے ہوئے یونیورسٹی آف ساوتھ ایشیا کے وائس چانسلر میاں عمران مسعود نے ایران امریکہ تنازع کے پرامن حل کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک اور بے مثال کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ایرانی سفارت کار کو یقین دلایا کہ پاکستانی قوم، حکومت اور ہماری مسلح افواج ہمیشہ اپنے ایرانی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں گی۔ طویل مدتی دوطرفہ تعاون کو دستاویزی شکل دینے کیلئے وائس چانسلر میاں عمران مسعود نے یونیورسٹی آف ساوتھ ایشیا اور ایران کی معروف یونیورسٹیوں کے درمیان جامع مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی تجویز پیش کی۔ اس تعلیمی فریم ورک کا مقصد مشترکہ ٹیکنالوجی ریسرچ، ثقافتی اقدامات، اور فیکلٹی و طلبہ کے تبادلے کے پروگراموں کو فروغ دینا ہے۔ ایرانی قونصل جنرل نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا اور سرحد پار تعلیمی اداروں کے درمیان روابط قائم کرنے میں اپنے قونصلیٹ کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ فیکلٹی ممبران کے ساتھ سوال و جواب کے ایک سیشن کے دوران، جب اسلام آباد معاہدے کے تناظر میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا، تو قونصل جنرل نے سختی سے دہرایا کہ تہران کا پروگرام بلا شبہ صرف اور صرف پرامن اور سویلین مقاصد کیلئے ہے۔ انہوں نے حاضرین کو یاد دلایا کہ رہبرِ معظم نے ایٹمی ہتھیاروں کے تخریبی استعمال کے خلاف باقاعدہ فتویٰ دے رکھا ہے کیونکہ یہ ہتھیار معصوم انسانی جانوں کے بڑے پیمانے پر ضیاع کا باعث بنتے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر دونوں جانب سے یادگاری شیلڈز اور تحائف کا تبادلہ کیا گیا اور علمی و سفارتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔