پاکستان کا امن پرپہرہ، مذاکراتی بیٹھک سجانے پراسلام آباد دنیا بھر میں مرکز نگاہ

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)امریکہ،ایران کی مذاکراتی بیٹھک سجانے پراسلام آباد دنیا بھر میں مرکز نگاہ،پاکستان کا امن پرپہرہ،ایک دوسرے پر بم برسانے والے ساتھ بیٹھیں گے،بات چیت کامیاب ہونے کی امید روشن،غیر ملکی وفود کی آمد کے پیش نظر ریڈ زون کو مکمل سیل کردیا گیا۔

پاکستان نے عارضی جنگ بندی کی کامیابی کے بعد مستقل امن معاہدہ کرانے کیلئے مذاکرات کی میز سجادی،نائب امریکی صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف ، جیرڈ کشنر ،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپیکرباقر قالیباف مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

حکام نے کہا مذاکرات محفوظ، خفیہ مقام پر میڈیا کی رسائی سے دور ہوں گے،امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات ہوسکتی ہے،پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف ،وزیر خارجہ اسحاق ڈار شرکت کریں گے، مذاکرات میں کشیدگی کامکمل خاتمہ،مستقل جنگ بندی معاہدہ متوقع ہے۔

ادھر اسلام آباد مذاکرات کےلئے سکیورٹی فول پروف،ریڈ زون کو مکمل سیل کردیا گیا، صرف متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت ہو گی،ریڈزون سرکل میں 5کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بھی بن گئیں،ریڈزون داخلہ پوانٹس پر پاک فوج، رینجرز، ایف سی، پنجاب اور وفاقی پولیس کے اہلکاروں نے ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

دریں اثنا وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سکیورٹی و دیگر انتظامات پر خصوصی اجلاس ہوا ،امریکہ ایران مذاکرات کی تیاریوں و سکیورٹی پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔

محسن نقوی نے کہا جنگ بندی کے بعد اسلام آبا د میں امریکہ ایران مذاکرات پاکستان کےلئے بڑا اعزاز،آنے والے وفود کی مہمان نوازی ،سکیورٹی کیلئے ہر ممکن اقدامات یقینی بنائے جائیں،ریڈ زون مکمل سیل ،صرف متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت ہو گی،وزارت داخلہ میں کنٹرول روم قائم کر دیا۔

دوسری جانب اسحاق ڈار سے نیدرلینڈز کے ہم منصب ٹام برینڈسن کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال، لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔

نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ نے جنگ بندی میں سہولت کاری کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے دیرپا امن کی مسلسل کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماﺅں کے پائیدار امن کیلئے جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے پر زور اورتجارت، معیشت ،سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔