ایک بےگناہ کو سزا دینے کی بجائے 10 گناہ گاروں کو بری کرنا زیادہ بہتر ہے،سپریم کورٹ


اسلام آباد:(بیورورپورٹ)20 سال پرانے قتل کیس میں ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی سزائیں کالعدم ،ملزم کو فوری رہا کرنے کا حکم،سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے ایک بے گناہ کو سزا دینے کی بجائے 10 گناہ گاروں کو بری کرنا زیادہ بہتر ہے،8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریر کیا۔

عدالت نے قرار دیا شکایت کنندہ عینی شاہد نہیں ،گواہوں کے بیانات میں بھی تضاد پایا گیا ، جائے وقوعہ ،پولیس سٹیشن کے درمیان 2 سے 3 کلومیٹر کا فاصلہ تھا، ایف آئی آر اسی دن کیوں نہیں درج کرائی گئی،گولیوں کے 5 خالی خول بھی فرانزک کےلئے لیبارٹری نہیں بھجوائے گئے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا استغاثہ کے پیش کیے گئے شواہد نقائص ،شکوک شبہات سے بھرپور ہیں،درخواست گزار کسی اور مقدمے میں نامزد نہیں تو فوری رہا کیاجائے۔