لاہور(مرزا ندیم بیگ )محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر کی جیلوں میں تعینات افسران و اہلکاروں کے تبادلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے تمام سپرنٹنڈنٹس جیل کو ہدایت کی ہے کہ جن ملازمین کے تبادلے کئے جا چکے ہیں، انہیں فوری طور پر ریلیو کیا جائے تاکہ نئی تعیناتی والی جیلوں میں بروقت جوائننگ ممکن بنائی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ کو متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں کہ بعض جیل سپرنٹنڈنٹس اپنے ماتحت اہلکاروں کو مختلف وجوہات کی بنا پر ریلیو نہیں کر رہے جس کے باعث تبادلوں کے احکامات صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے احکامات میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ملازم کو غیر ضروری طور پر روکنا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تصور ہو گا اور اس کے ذمہ دار متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کی مختلف جیلوں میں عرصہ دراز سے ایک ہی مقام پر تعینات ملازمین کی تبدیلی، انتظامی معاملات میں بہتری، ڈسپلن کے قیام اور مبینہ گروپ بندیوں کے خاتمے کیلئے حالیہ تبادلوں کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ احکامات کے پس منظر میں لاہور کی کیمپ جیل کا ایک واقعہ بھی اہم وجہ بنا۔ بتایا گیا ہے کہ کیمپ جیل میں تعینات اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ وسیم کا ایک اعلیٰ افسر کے دورہ کے دوران رویہ حکام کی نظر میں غیر مناسب قرار پایا۔ ذرائع کے مطابق دوران وزٹ مذکورہ افسر نے جیب میں ہاتھ ڈال کر گفتگو کی جسے ڈسپلن کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے نہ صرف اس کا فوری تبادلہ کر دیا گیا بلکہ جہاں اس کی ٹرانسفر ہوئی تھی وہاں چیک کروایا کروایا کہ جوائننگ دیدی ہے کہ نہیں وہاں نہ جانے کی صورت میں احکامات جاری کئے گئے کہ جس کی ٹرانسفر ہوتی ہے اسے فوری ریلیو کیا جائے اور نئی جگہ جوائننگ کو کنفر م کیا جائے ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ داخلہ کو یہ بھی اطلاعات موصول ہوئیں کہ بعض افسران اپنے پسندیدہ یا ضرورت کے ملازمین کو ریلیو کرنے سے گریز کرتے ہیں جبکہ بعض اہلکار نئی جیلوں میں جوائننگ سے بچنے کیلئے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ اسی صورتحال کے پیش نظر ہوم ڈیپارٹمنٹ نے واضح پیغام دیا ہے کہ تبادلوں کے احکامات پر فوری عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ملازم کو بغیر جواز روکنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ذرائع کے مطابق جیل حکام کا مو¿قف ہے کہ بعض اوقات حساس ڈیوٹیوں، سکیورٹی صورتحال اور عملے کی کمی کے باعث فوری ریلیونگ میں مشکلات پیش آتی ہیں تاہم محکمہ داخلہ نے اس موقف کو جزوی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی جیل میں عملے کی کمی کا مسئلہ موجود ہے تو اس کیلئے علیحدہ سے سمری بھجوائی جائے مگر تبادلوں کے احکامات پر عملدرآمد میں تاخیر نہ کی جائے۔دوسری جانب محکمہ جیل خانہ جات کے حلقوں میں اس اقدام کو نظم و ضبط قائم کرنے اور انتظامی کنٹرول مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایک ہی جیل میں طویل عرصہ تعیناتی نہ صرف انتظامی مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ بااثر گروپس اور غیر رسمی روابط بھی پیدا ہو جاتے ہیں، جنہیں ختم کرنے کیلئے وقتاً فوقتاً تبادلے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ نے تمام ریجنل ڈی آئی جیز جیل خانہ جات سے بھی رپورٹ طلب کر لی ہے کہ تبادلوں کے احکامات پر کس حد تک عملدرآمد ہوا اور کتنے ملازمین ابھی تک نئی تعیناتی والی جیلوں میں رپورٹ نہیں کر سکے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند روز میں اس حوالے سے مزید سخت اقدامات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
لاہور(کرائم رپورٹر) پنجاب کی مختلف جیلوں میں تعینات ایسے ملازمین جو مخصوص شعبوں میں مہارت رکھتے ہیں، ان کے اچانک تبادلوں کے باعث جیل انتظامیہ کو شدید انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق بعض اہلکار برسوں کے تجربے، تکنیکی مہارت اور عملی سمجھ بوجھ کے باعث ادارے کیلئے ناگزیر حیثیت اختیار کر جاتے ہیں، تاہم ان کے تبادلوں کے وقت اکثر ان کا مناسب متبادل فراہم نہیں کیا جاتا جس کے نتیجے میں کئی اہم امور متاثر ہونے لگتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کیمپ جیل سے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ وسیم کے تبادلے کے بعد صورتحال واضح طور پر سامنے آئی، جو آئی ٹی سسٹمز سمیت متعدد اہم انتظامی ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے تبادلے کے بعد کئی تکنیکی اور دفتری معاملات سست روی کا شکار ہو گئے کیونکہ ان جیسی مہارت رکھنے والا متبادل افسر فوری طور پر دستیاب نہ ہو سکا۔جیل ذرائع کے مطابق جیلوں میں ایسے متعدد ملازمین موجود ہیں جو کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ، سکیورٹی مانیٹرنگ، اسلحہ ریکارڈ، ویڈیو سرویلنس، قیدیوں کے ڈیٹا، عدالتی رابطوں اور دیگر حساس امور میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان اہلکاروں کے تبادلوں سے صرف دفتری امور ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات سکیورٹی معاملات بھی دباو¿ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ بعض اوقات چند شکایات یا ذاتی نوعیت کی رپورٹس کی بنیاد پر ایسے اہلکاروں کے تبادلے کر دیئے جاتے ہیں جو عملی طور پر ادارے کے لئے انتہائی اہم ہوتے ہیں، جبکہ ان کی جگہ آنے والے اہلکاروں کو نظام سمجھنے میں طویل وقت درکار ہوتا ہے۔ اس دوران سپرنٹنڈنٹس کو روزمرہ امور چلانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔جیل انتظامیہ سے وابستہ افسران کا کہنا ہے کہ کسی بھی جیل کا سپرنٹنڈنٹ اپنے سٹاف کی صلاحیتوں، کمزوریوں اور کردار سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کون سا ملازم کس شعبے میں مہارت رکھتا ہے، کون ادارے کیلئے ضروری ہے اور کون سا اہلکار محض رسمی ڈیوٹی انجام دے رہا ہے۔ ان افسران کے مطابق سپرنٹنڈنٹس کا ذاتی مفاد نہیں ہوتا بلکہ ان کی ترجیح صرف جیل نظام کو موثر انداز میں چلانا اور سکیورٹی برقرار رکھنا ہوتی ہے۔ذرائع کے مطابق ایسے ملازمین بھی موجود ہوتے ہیں جن کے تبادلے سے انتظامی امور پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، تاہم بعض اہلکار پورے نظام کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی غیر منصوبہ بند ٹرانسفر نہ صرف جیل انتظامیہ بلکہ دیگر متعلقہ شعبوں کے لئے بھی مشکلات پیدا کر دیتی ہے۔جیل حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تبادلوں کے فیصلوں میں صرف شکایات یا سفارشات کو بنیاد بنانے کے بجائے متعلقہ سپرنٹنڈنٹس کی رائے، ملازمین کی فنی مہارت اور ادارے کی عملی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ جیلوں کا انتظامی نظام متاثر نہ ہو اور اہم امور بلا تعطل جاری رہ سکیں۔
لاہور(کرائم رپورٹر)آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے صوبہ بھر کی جیلوں کے سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت جاری کی ہے کہ تبادلہ ہونے والے تمام افسران و اہلکاران کو فوری طور پر ریلیو کیا جائے اور اس ضمن میں کسی قسم کی تاخیر یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،سیکرٹری داخلہ پنجاب کو موصول ہونے والی شکایات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعدد جیلوں میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس اور اہلکاران کو مختلف حیلوں بہانوں سے ریلیو نہیں کیا جا رہا۔ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ پنجاب نے اپنے حالیہ دورہ ڈسٹرکٹ جیل لاہور کے دوران اس عمل کو خلافِ ضابطہ قرار دیتے ہوئے فوری عملدرآمد کی ہدایت کی،آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کی جانب سے جاری احکامات میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام سپرنٹنڈنٹس اس امر کو یقینی بنائیں کہ زیر تبادلہ افسران کو بلا تاخیر فارغ کیا جائے اور اس کی اطلاع ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی جی آفس کو فراہم کی جائے،مزید برآں ہدایت کی گئی ہے کہ احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ تمام جیلوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 6 مئی 2026 تک عملدرآمد رپورٹ لازمی طور پر جمع کروائیں۔ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر کا کہنا ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات پنجاب میں نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے تمام احکامات پر سختی سے عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب ، جیلوں میں تعینات افسروں، اہلکاروں کے تبادلوں پر عملدرآمد کا حکم



















