اسلام آباد (بیورو رپورٹ) امریکی ٹی وی کی رپورٹ مسترد، پاکستان نے نور خان ائیربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی کی خبروں کوگمراہ کن قراردےدیا،دفتر خارجہ نے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کو گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیتے ہوئے کہا قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیہ بظاہر خطے میں استحکام و امن کےلئے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے کےلئے گھڑا گیا ،جنگ بندی ، اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی دور میں ایران اور امریکہ سے متعدد طیارے پاکستان پہنچے تاکہ مذاکراتی عمل سے وابستہ سفارتی عملے، سکیورٹی ٹیموں اور انتظامی سٹاف کی نقل و حرکت کو سہولت فراہم کی جا سکے، بعض طیارے و معاون عملہ آئندہ ممکنہ مذاکراتی ادوار کی توقع میں عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہا،وزارت خارجہ نے کہا اگرچہ باضابطہ مذاکرات ابھی دوبارہ شروع نہیں ہوئے تاہم اعلیٰ سطح پر سفارتی روابط مسلسل جاری ہیں اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد دوروں کو موجودہ انتظامی ، لاجسٹک سہولیات کے تحت ممکن بنایا گیا، پاکستان میں موجود ایرانی طیارے جنگ بندی کے دوران آئے ،کسی فوجی ہنگامی صورتحال یا حفاظتی انتظام سے کوئی تعلق نہیں، قیاس آرائیاں، گمراہ کن اور حقائق سے مکمل طور پر عاری ہیں،دفتر خارجہ نے کہاپاکستان کی جانب سے ہمیشہ غیر جانبدار، تعمیری و ذمہ دار سہولت کار کے طور پر مکالمے ،کشیدگی میں کمی کی حمایت کی گئی جہاں ضرورت پیش آئی معمول کے مطابق انتظامی و لاجسٹک تعاون فراہم کیا،تمام متعلقہ فریقوں کےساتھ مکمل شفافیت ،مسلسل رابطہ بھی برقرار رکھا،پاکستان خطے ،دنیا میں امن، استحکام ،سلامتی کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور بامعنی مذاکرات کےلئے کی جانےوالی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
واشنگٹن (بیورو رپورٹ) وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے متحدہ عرب امارات نے امریکہ ،اسرائیل کی ایران کےخلاف جنگ کے دوران خفیہ طور پر تہران پرکئی حملے کیے،اہم توانائی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، رپورٹ کے مطابق یو اے ای نے ایران کے لاوان جزیرے پر قائم آئل ریفائنری پر حملہ کیا، نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور ریفائنری کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا،حملہ اپریل کے آغاز میں تب کیا گیا جب امریکی صدر ٹرمپ ایران کےساتھ جنگ بندی کے اعلان کی تیاری کر رہے تھے،امریکہ نے خاموشی سے جنگ میں متحدہ عرب امارات کی شمولیت کا خیرمقدم کیا،امریکی اخبار نے کہاایران نے حملوں کے جواب میں یو اے ای ،کویت پر بیلسٹک میزائلوں ،ڈرونز داغے،سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات پر کیے، تعداد تقریباً 2800 ہے،حملوں نے یو اے ای کی معیشت متاثر ، کئی اداروں میں ملازمین کی برطرفیاں ،جبری رخصتیاں بڑھیں ،ملکی سکیورٹی پالیسی میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئیں۔
تہران (بیورو رپورٹ) دوبارہ حملہ کیا گیا تو یورینیم افزودگی 90 فیصد تک بڑھادینگے،ایران نے امریکہ ،اسرائیل کو خبردار کردیا،ایرانی پارلیمانی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا امریکہ ،اسرائیل کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں ممکنہ ردعمل میں 90 فیصد یورینیم افزودگی شامل ہوسکتی ہے،معاملے کا پارلیمنٹ میں جائزہ لیا جائے گا اور قومی مفادات کے مطابق فیصلہ کرینگے،سپیکر باقر قالیباف نے کہا 14 نکاتی تجویز میں ایرانی عوام کے حقوق واضح طور پر بیان کیے گئے ،امریکہ کو تسلیم کرنا پڑے گا،کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں کوئی اور اختیار کی جانےوالی حکمت عملی مکمل طور پر بے نتیجہ ہو گی اور حاصل مسلسل ایک کے بعد ایک ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہو گا،واشنگٹن جتنی زیادہ تاخیر کرے گا اتنی ہی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کو ادا کرنا پڑے گی۔
واشنگٹن (بیورو رپورٹ) امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہاہے ایران کیخلاف جنگ مقدس مشن ، امریکہ کو دنیا کی طاقتور ترین فوج بنانا ہے،پیٹ ہیگستھ نے کانگریس کی دفاعی ذیلی کمیٹی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کیے گئے دفاعی بجٹ کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہادفاعی بجٹ کےلئے 1.5 ٹریلین ڈالر کی خطیر رقم امریکہ کو دنیا کی سب سے طاقتور و قابل فوجی قوت برقرار رکھنے کےلئے ضروری ہے، ٹرمپ کو ایسا دفاعی صنعتی ڈھانچہ ورثے میں ملا جو برسوں کی ”امریکہ سب سے آخر میں“ کی پالیسیوں کے باعث کمزور ہو چکا تھااب پینٹاگون زوال کو ختم کرکے امریکی فوج ،دفاع کو ”جنگی بنیادوں“ پر دوبارہ استوار کر رہا ،ہر صورتحال کےلئے منصوبہ موجود،جنگ میں شدت لانے،تنازع سے بحفاظت نکلنے اور فوجی اثاثوں کی منتقلی کا مکمل پلان تیار ہے،حساس صورتحال میں آئندہ اقدامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کرسکتے کیونکہ صدر ٹرمپ کا مشن یقینی بنانا ہے ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے،امریکی وزیر دفاع نے ایران پر امریکی فوجی کارروائیوں کو مقدس مشن قرار دیتے ہوئے کہا خدا امریکی افواج کی حفاظت کرے ،1.5 ٹریلین ڈالر کا مجوزہ دفاعی بجٹ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا عسکری بجٹ ہوگا ،بجٹ میں جدید ہتھیاروں، میزائل دفاعی نظام، بحری قوت، مصنوعی ذہانت، سائبر وارفیئر اور بحرالکاہل خطے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کےلئے اضافی سرمایہ کاری شامل ہے۔
امریکی رپورٹ گمراہ کن، پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی مسترد


















