اسلامی فلاحی معاشرہ کی تشکیل میں اتفاق و اتحاد بنیادی تعلیمات ہیں:ڈاکٹر انتخاب احمد نوری

لاہور (قاضی ندیم اقبال/ عکاسی: میاں شاہنواز) چیئر مین متحدہ علما بورڈ پنجاب مفتی ڈاکٹر انتخاب احمد نوری نے کہا ہے کہ اسلام امن و محبت کا پیامبر ہے۔ اسلامی فلاحی معاشرہ کی تشکیل میں اتفاق و اتحاد بنیادی تعلیمات ہیں۔معاشرہ اسی صورت میں پروان چڑھتا ہے جب افراد ِ معاشرہ میں اتفاق و اتحاد، مذہبی و مسلکی ہم آہنگی ہو۔ بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے احترام انسانیت پر عمل پیرا ہونا اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینا اشد ضروری ہے۔پارٹی سربراہ میاں نواز شریف، وزیر اعظم شہباز شریف، میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مجھ پر جو اعتماد کیا ہے، ان کے اعتماد اور توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ متحدہ علماءبورڈ کے پلیٹ فارم سے انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔اس ضمن میں تمام مکاتب فکر کے علما ءکو ساتھ لے کر چلیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایڈیٹر ”مشرق“ عاطف سعید سے ملاقات اور بعد ازاں ”مشرق فورم “ میں دوران گفتگو کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کو داخلی اور خارجی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں مذہبی ہم آہنگی کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔ متحدہ علما بورڈ پنجاب میں مختلف مکاتب فکر کے جید علما شامل ہیں اور یہ ادارہ صوبے میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ، فرقہ واریت کے خاتمے اور نفرت انگیز مواد کی روک تھام کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ دفتر کو فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ اس پلیٹ فارم سے موثر انداز میں کام کیا جا سکے اور صوبے میں امن و امان کو مزید بہتر بنانے میں معاون کا کردار بخوبی نبھایا جائے اس سلسلے میں تمام مسالک کے علماءمشائخ حکومت کے دست و بازو کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں چیئر مین متحدہ علما بورڈ پنجاب نے کہا کہ ماضی بعید اور ماضی قریب میں نگاہ دوڑائیں تو یہ بات قوی طور پر سامنے آتی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں انتشار و افتراق کی بنیادی وجہ زیادہ تر لوگوں کا کم تعلیم یافتہ ہونا ،دوسرے فرقوں کے بارے میں لاعلمی ،غلط فہمیاں ،غلط تصورات اور افواہیں ہیں۔پاکستان کے سماجی مسائل میں سے ایک بنیادی اور اہم مسئلہ فرقہ واریت بھی رہاہے۔اس کے اسباب زیادہ تر سیاسی و سماجی نوعیت کے ہیں، تاہم کچھ چیزیں علمی نوعیت کی بھی ہیں جنہیں علماءتک ہی محدود ہونا چاہیے۔الزام و التزام کے رویوں، مفاہمانہ اور مکالمانہ انداز کے بجائے مناظرانہ اور جارحانہ طرز نے ہمارے اخلاقی معیار کو پست کر نے میں بخوبی کردار ادا کیا۔ تاہم ہر دور میں تمام مسالک کے علماءمشائخ اور تمام مذہب کی جید شخصیات نے اپنی ملی اور قومی ذمہ داریاں بخوبی ادا کیں۔ معاشرے کو تفریق سے بچانے اور عوام الناس کو حقیقی معنوں میں معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ جس کے مثبت ثمرات سامنے آئے۔چیئر مین متحدہ علما بورڈ پنجاب مفتی ڈاکٹر انتخاب احمد نوری نے چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل /مہتمم جامعہ نعیمیہ اور اپنے سابق ہم منصب ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سربراہی میں زمینی حقائق اور معاشرے کو درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے متحدہ علماءبورڈ پنجاب کے کلیدی قواعد و ضوابط وضع کئے گئے اور اہداف کا تعین بھی کیا گیا ہے۔چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل /مہتمم جامعہ نعیمیہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کی زیر صدارت گذشتہ برس متحدہ علماءبورڈ پنجاب نے مارچ 2025 میں نئے قوائد و ضوابط کی منظوری دی ، جس کا مقصد بورڈ کے کام کو مزید منظم بنانا ہے۔متفقہ ضابطہ اخلاق: بورڈ نے تمام مکاتب فکر کے تعاون سے ایک متفقہ ضابطہ اخلاق منظور کیا ہے۔ جس کا مقصد فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا اور نفرت انگیز تقاریر یا لٹریچر کا سدباب کرنا ہے۔بورڈ کو نصاب اور کتابوں کی جانچ پڑتال یہ قانونی اور آئینی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتابوں کی جانچ پڑتال کرے تاکہ قابل اعتراض مواد کو روکا جا سکے۔بورڈ کو زیادہ بااختیار اور قانونی طور پر مستحکم بنانے کی غرض سے قانون سازی اور قانونی حیثیت کے حوالے سے موجود قوانین میں ترمیم کیلئے ماضی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ اس کے فیصلوں کو آئینی تحفظ حاصل ہو۔اسی طرح حکومت پنجاب نے یقین دہانی کروائی ہے کہ مدارس کے اندرونی نظام میں مداخلت نہیں کی جائیگی، البتہ نصاب کی جانچ پڑتال بورڈ کے ذریعے ہوگی۔ مجموعی طور پر، ان قواعد کا بنیادی مقصد پنجاب میں مذہبی امن و امان، فرقہ وارانہ نفرت کا خاتمہ اور تعلیمی نصاب میں اعتدال پسندی کو یقینی بنانا ہے۔”مشرق“ کی جانب سے پاکستان کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز اور اس کے حل کی بابت پوچھے گئے سوال کے جواب میں چیئر مین متحدہ علماءبورڈ نے کہا کہ اسلام ایک ایسا خوبصورت مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے جن میں عبادات کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام امور ور معاملات شامل ہیں دین اسلام کی ہمہ گیری کا تقاضا یہی ہے کہ امت مسلمہ ایک وحدت کی حیثیت سے آپس میں ملکر اتفاق واتحاد سے رہے اس ضمن میں تمام اہل اسلام کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ نیکیوں کی تلقین کریں اور برائیوں سے بچیں ایک دوسرے کو بھی برائی سے روکیں لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ایک خدا ایک رسول اور ایک کتاب حق کے ماننے والے آپس میں اتفاق واتحاد سے متحد ہو کر رہیں گے اگر امت مسلمہ ملکر اتفاق واتحاد سے رہے تو ان میں ایسی توانائی طاقت پیدا ہو سکتی ہے جس سے پوری دنیا میں اسلامی نظام کے نفاذ میں کوئی دقت پریشانی نہیں پیدا ہو گی مسلمانوں کو اللہ نے بہترین امت بنا یا ہے۔ جب ہم آپس میں پیارواتفاق سے رہیں گے اور پوری دنیا میں ایک ناقابل تسخیر طاقت بن کر ابھریں گے شاید اسی لئے فتح و نصرت کو اللہ نے اجتماعی ایمان سے مشروط فرما دیا ہے قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے کہ تم ہی غالب رہو گے اگر تم سچے ہو (سورةآل عمران ۹۳۱)گویا جب پوری امت مسلمہ کے ایک ایک فرد میں اتفاق واتحاد کی فضا قائم ہو جائے گی جس کے باعث وہ سب ایک دوسرے کے ہمدرد،غم خوار،اور جانثار بن جائیں گے اور انکی صفوں میں ایسی شیرازہ بندی قائم ہو جائے گی کہ کوئی بڑی سے بڑی عالمی اٹیمی قوت بھی ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بن پائے گی اور یہ دین اسلام کو کامیابی کے ساتھ تمام طریقہ ہائے زندگی اور افکار واعمال کے تمام نظاموں پر غالب کر سکیں گے اور ہمیں تو اللہ خود اپنی مقدس کتاب ہدایت میں یہ حکم دے رہا ہے کہ ارشادربانی ہے کہ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو۔اسلام کوئی ایسا دین نہیں جسے زبردستی لوگوں پر مسلط کیا جا سکے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے زور زبردستی کرنے سے منع فرمایا ہے اور اللہ نے اسلام کو بازور قوت بازو زبردستی پھیلانے سے منع فرمایا ہے یہ تو امن اور سلامتی کا پیارا مذہب ہے۔”مشرق“ کی جانب سے ملک و قوم کو متحد کرنے اور فرقہ واریت سے بچنے کیلئے قوی طور پر تیار کی جانے والی پالیسیوں کے بارے میں سوال کے جواب میں مفتی ڈاکٹر انتخاب احمد نوری نے کہا کہ اسلام تو دوسروں کے ساتھ ایثار کرنے کا حکم دیتا ہے اسلام نے تو ہمدردی کا سبق سیکھایا ہے اسلام تو اپنے ذاتی مفادات کو اجتماعی مفادات پر قربان ہونے کا درس دیتا ہے۔اسلام کی مرضی اور منشاءاور پیغام تو یہ ہے کہ مسلمان آپس میں اس پیار ومحبت کے ساتھ اتفاق واتحاد کے ساتھ رہیں کے غیر مذہب بھی ان کے اخلاق کو دیکھ کر اسلام کی دولت سے سرفراز ہو جائیں۔مگر بدقسمتی سے امت کے افراد نے خود غرضی پر کمر کس لی ہے اور اپنے اپنے ذاتی مفادات کو آگے رکھ دیا ہے اور اس طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے ہم اپنی جس بدحالی پر آج سب پریشان ہیں اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ملت کے جسم کو اپنی خود غرضیوں اور ذاتی مفادات سے زخمی کر کے شدید نقصان پہنچایا ہے ہم مسلمانوں کا ذاتی وجود دراصل ہمارے ملی وجود کا پرتو اور سایہ ہے جب ہمارے برے اعمال سے ہمارے سروں پر سایہ کرنے والا یہ وجود کمزور ہو گا تو ہم کیسے خوشحال ہو سکتے ہیں اگر ہم فرقہ واریت کے زہر اور اغیار کی ان سازشوں سے بچنا ہے اپنا ملک اپنے شہر اپنے گاو¿ں اپنی بستیاں اپنی گلیاں اپنے محلے اپنے گھر اپنی مساجد اپنے مزارات صوفیا کرام اپنی عبادت گاہوں کو ہم نے محفوظ رکھنا ہے تو ہمیں اتفاق واتحاد کا مظاہرہ عملی طور پر کرنا ہو گا جس کا حکم ہمارے کریم مالک کائنات نے ہمیں دیا جس کا حکم اس کے محبوب کریم نے ہم کو دیا جس کا درس اصحاب رسول نے دیا جس امن کا پیغام کربلا والے شہداءکرام اہل بیت اطہار نے دیا اور یہی وہ امن کا بھائی چارے کا محبتوں کا اتفاق واتحاد کا امن کا انسانیت ک درس ہے جسے صوفیاءکرام نے لاکھوں لوگو ں کو دیا اسلام کے یہ آفاقی عالمگیر سچائی کا پیغام حق ہے کہ سب کلمہ گو سب اہل ایمان آپس میں پیار ومحبت اتفاق واتحاد سے رہیں اور رسول کریم کی ذات اقدس جن کی ہر ہر ادا میں ہمارے لئے بہترین نمونہ اسوہ کامل ہے۔ اس پر کامل یقین کے ساتھ عمل پیرا ہو جائیں۔