واشنگٹن (مشرق نیوز) عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو طویل کرنے کی خبروں نے مارکیٹ میں بے یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں مسلسل آٹھویں روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جون کے معاہدے کیلئے برینٹ کروڈ 52 سینٹ اضافے کے بعد 111.78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ جولائی کے معاہدے کی قیمت 104.84 ڈالر فی بیرل رہی۔
دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 57 سینٹ اضافے کے بعد 100.50 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ اس سے قبل بھی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا، جو مسلسل سات دن تک بڑھتی رہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت ایران پر اقتصادی دباو بڑھانے کیلئے اس کی بندرگاہوں تک بحری آمد و رفت کو محدود کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس ممکنہ اقدام سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کیخلاف امریکی پابندیاں اور ناکہ بندی مزید سخت کی گئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے مختلف ممالک کی معیشتیں متاثر ہوں گی۔
ادھر سرمایہ کار صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا مستقبل امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور پالیسی فیصلوں پر منحصر ہے۔
امریکی ناکہ بندی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ


















