قاتلانہ حملے ایران کیخلاف جنگ میں کامیابی سے نہیں روک سکتے: ٹرمپ

واشنگٹن (مشرق نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس حملہ کے بعد کہا ہے کہ وائٹ ہاوس میں فائرنگ مجھے ایران کے خلاف جنگ لڑنے اور جیتنے سے نہیں روک سکے گی اگرچہ میرے خیال میں اس فائرنگ کا ایران جنگ سے تعلق نہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایسی چیزیں مجھے ایران جنگ کو جیتنے سے نہیں روک سکتیں، مجھے نہیں معلوم کہ اس کا اس ایران جنگ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں اور جو کچھ میں جانتا ہوں اس کی بنیاد پر مجھے ایسا نہیں لگتا۔

وائٹ ہاوس میں صدر ٹرمپ، خاتون اول، نائب صدر کی موجودگی میں پریس ڈنر کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، ایک اہلکار کو گولیاں لگی ہیں جبکہ حملہ آور پکڑا گیا ہے، ملزم انتہائی بیمار انسان ہے، ہم نہیں چاہتے کہ اس طرح کے واقعات پیش آئیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ پاگل لوگ ہیں اور ان سے نمٹنے کی ضرورت ہے، مشتبہ شخص کے پاس بہت سے ہتھیار تھے، سیکریٹ سروس نے فوری اور بہادری سے کارروائی کی، مشتبہ شخص نے سکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ انتہائی حیرت انگیز لمحہ تھا، ٹرے گرنے کی زوردار آوازیں سنیں، میں دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا ہوا، میلانیا نے فوراً کہا کہ بری آواز ہے، میلانیا شدید صدمے میں ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ اس شخص نے 50 گز دور سے حملے کی کوشش کی، ایک اہلکار کوگولی لگی مگر بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا، میرے خیال میں شوٹنگ کا ایران جنگ سے تعلق نہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ جس اہلکارکو گولی لگی، میں نے اس سے بات کی ہے، کئی سال میں یہ پہلا موقع نہیں کہ ری پبلکنز پرحملہ ہوا، گرفتار مشتبہ حملہ آورکا تعلق کیلیفورنیا سے ہے، اہلکاروں نے بروقت اقدام کرکے ہزاروں افراد کی جانیں بچائیں، جلد معلوم کرلیں گے کہ آیا یہ واحد شوٹرتھا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اختلافات ختم کرنا ہوں گے، ہم 30 دن میں اس سے بڑی تقریب منعقد کریں گے، ہم اپنی تقاریب منسوخ نہیں کریں گے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں صرف سیاسی محرکات کے تحت ہونے والے حملوں پر نہیں بلکہ ہر قسم کے تشدد پر تشویش ہے۔ انہوں نے صدارت کے پیشے کو لاحق خطرات کا موازنہ ریسنگ کار ڈرائیونگ اور بیل سواری جیسے خطرناک شعبوں سے کیا، اور دعویٰ کیا کہ اب تک تقریباً 5.8 فیصد امریکی صدور پر فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ میں تصور نہیں کر سکتا کہ صدر کے عہدے سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ بھی ہو سکتا ہے، بطور کمانڈر ان چیف آپ کو خطرات مول لینے پڑتے ہیں۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر مارکو نے مجھے یہ سب پہلے بتا دیا ہوتا تو شاید میں صدر کیلئے انتخاب ہی نہ لڑتا۔

واضح رہے کہ مارکو روبیو 2016 کے صدارتی انتخاب میں ریپبلکن پرائمری کے امیدوار تھے تاہم ٹرمپ کے جماعت کا ٹکٹ حاصل کرنے کے بعد وہ دوڑ سے دستبردار ہو گئے تھے۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ تمام خطرات کے باوجود وہ ایک نارمل زندگی گزارتے ہیں اور وہ ایسے واقعات کے بارے میں زیادہ سوچنا نہیں چاہتے۔

انکے مطابق خاتون اول کو بھی اس شعبے سے لاحق خطرات کا اعادہ ہے اور یہ ان کیلئے بھی خطرناک ہے۔