امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات کامیابی میں رکاوٹہیں: ایرانی وزیر خارجہ

واشنگٹن، تہران، ماسکو (بیورو رپورٹ+ مشرق نیوز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکراتی عمل میں کچھ پیشرفت ہوئی تاہم مکمل کامیابی ابھی باقی ہے، پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں اہم کردار ادا کیا، نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت کو آگے بڑھانے میں مدد ملی، ماضی میں مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ امریکہ کی غلط پالیسیاں اور حد سے زیادہ مطالبات تھے جنہوں نے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی،ٹیلی گرام پر موجود اپنے بیان میں عراقچی نے کہا پاکستان میں بہتر انداز میں مشاورت ہوئی، دورہ کامیاب رہا، عمانی حکام سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اہم مشاورت کی گئی،ایرانی نائب صدر اسماعیل سقاب اصفہانی نے کہا اگر ایران کے تیل کے کنوو¿ں یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تو جواب میں 1 کے بدلے 4 گنا نقصان کیا جائے گا،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرز برگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی،روسی خبررساں ایجنسی کے مطابق روسی صدر پیوٹن نے ایرانی سپریم لیڈر کا ملنے کے بعد نیک خواہشات کا اظہار کیا،صدر پیوٹن نے کہا امید ہے ایرانی عوام مشکل دور سے گزر جائیں گے اور امن قائم ہوگا، ایران اور خطے کے ممالک کے مفادات میں جو ممکن ہوا روس کرے گا، روس ایران کےساتھ سٹرٹیجک تعلقات کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے،ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا روس ایران تعلقات سٹرٹیجک شراکت داری پر مبنی ہیں جو مزید مضبوط ہوتے رہیں گے،عباس عراقچی نے ایران کی حمایت پر روس اور صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے میں پاکستان کا بہت احترام کرتا ہوں، پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم بہت اچھے اور قابل احترام ہیں،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا میں نے 8 جنگیں رکوائیں جن میں پاکستان اور بھارت کی جنگ بھی شامل ہے، پاکستان ، بھارت کی جنگ جوہری جنگ کی طرف جا رہی تھی، جنگ کے دوران 11 جہاز گرائے گئے، ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور ہم فاتح ہوں گے، ایران بات کرنا چاہتا ہے تو وہ ہمیں فون کر سکتا ہے، ہم یہ کام فون کے ذریعے کریں گے، ایران میں جن لوگوں سے ہم نمٹ رہے ہیں ان میں کچھ مناسب ہیں اور کچھ نہیں، امید ہے ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا،امریکی صدر نے کہا ایران کا افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات کا حصہ ہے، ہم اسے حاصل کریں گے، چین سے زیادہ مایوس نہیں ہوں تاہم وہ مزید مدد کر سکتا ہے،نیٹو کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا ایران کے معاملے میں نیٹو ہمارے ساتھ نہیں تھا، جب جنگ ختم ہوگئی تو برطانیہ نے کہا وہ جہاز بھیجے گا، یہ اچھا نہیں ہے۔