بیروت، تل ابیب (مشرق نیوز) جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں مزید 14افراد شہید ہو گئے،لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں2 بچوں اور دو خواتین سمیت مجموعی طور پر 14افراد جاں بحق،37 زخمی ہوئے،جنوبی لبنان کے علاقے طیبہ میں حزب اللہ نے ڈرون سے اسرائیلی فوجیوں کے قریب حملہ کر دیاجس کے بعد اسرائیلی فوجیوں میں بھگدڑ مچ گئی،اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ کر کے ڈرون کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، بارودی ڈرون ہیلی کاپٹر کے نزدیک گرا اور زور دار دھماکے سے پھٹ گیا،لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل کےساتھ براہ راست مذاکرات کویکسر مسترد کر دیا، نعیم قاسم نے اسرائیل کےساتھ بات چیت کو گناہ قرار دیتے ہوئے کہا یہ لبنان کوغیرمستحکم کردےگی لہٰذا اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں، مزاحمت مضبوطی سے جاری ہے، شکست نہیں دی جا سکتی، حکام کوبراہ راست مذاکرات روک کر بالواسطہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، اپنے ہتھیارنہیں ڈالیں گے، لبنان اور عوام کے دفاع کیلئے مزاحمت جاری رکھیں گے، چاہے دشمن کتنی ہی دھمکیاں دے، نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ جھکیں گے اور نہ ہی شکست کھائیں گے،حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی پیش قدمی کو روکنے کےلئے جنگی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے 1980 کی دہائی کے’ ’خودکش حملوں“ کے حربوں کو دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کر دیا،عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حزب اللہ کے ایک غیر معمولی فوجی عہدیدار نے انکشاف کیا مزاحمتی تنظیم نے اسرائیلی فوج کو لبنانی سرزمین پر قدم جمانے سے روکنے کےلئے خصوصی ”سوسائیڈ اسکواڈز’“کو الرٹ کر دیا ہے،دوسری جانب اسرائیل نے تصدیق کرتے ہوئے کہا جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اسرائیلی فوجی بھی ہلاک گیا، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا اسرائیل کو منصوبہ بندی، فوری یا جاری حملوں کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے۔
پیچھے ہٹیں گے نہ جھکیں گے:حزب اللہ کا اسرائیل سے براہ راست مذاکرات سے انکار


















