اسلام آباد (مشرق نیوز)امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر اپنے کردار کیلئے پاکستان پرعزم ہے اور ایک اعلیٰ سرکاری ذریعے نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ اسلام آباد ”خطے میں امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا“۔ یہ بیان ان چیلنجز کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو دو ماہ پرانے تنازع کے خاتمے کیلئے تعطل کا شکار بات چیت کی بحالی میں درپیش ہیں جبکہ بالواسطہ ذرائع اب بھی متحرک ہیں۔
ایک سینئر عہدیدار نے سفارتی حساسیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان خطے میں امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور کرتا رہیگا۔ پاکستانی قیادت، بشمول وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، شٹل سفارتکاری میں پیش پیش رہی ہے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا کردار ادا کر رہی ہے۔
پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں اس ماہ کے آغاز میں جنگ بندی ممکن ہوئی تھی جسے پاکستانی اپیلوں کے بعد توسیع بھی دی گئی۔ تاہم، بریک تھرو کی امیدیں اس وقت ماند پڑ گئیں جب ایران نے امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اسلام آباد کے کردار سے واقف ایک ذریعے نے پاکستان کی کوششوں کو ”مسلسل اور خاموش“ قرار دیا اور کہا کہ براہ راست روابط کی کمی کے باوجود پاکستان خلیج کو کم کرنے کیلئے سرگرم ہے۔
اطلاعات کے مطابق، ہفتے کے اختتام پر ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے دورے میں نئی تجاویز شامل تھیں، جو پاکستانی ذریعے نے امریکی فریق تک پہنچائیں۔ سرکاری ذریعے نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ثالثی کا مقصد تشہیر نہیں بلکہ نتائج ہیں۔
ایک اور سرکاری ذریعے کا کہنا تھا کہ ہم دیرپا امن کے حصول تک دونوں فریقین کے ساتھ کام جاری رکھیں گے جس وقت عالمی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا بالواسطہ ذرائع کسی پیشرفت کا باعث بن سکتے ہیں، پاکستانی حکام آنے والے دنوں میں اعلیٰ سطح پر رابطے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو ممکنہ طور پر کثیرالجہتی کوششوں کے نئے مرحلے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
رکاوٹوں کے باوجود پاکستان کی جنگ بندی کیلئے ”مسلسل اور خاموش“ کوششیں

















