اوورسیز کشمیریوں کا پاکستان میں سرمایہ کاری ، مسئلہ کشمیر کیلئے بھرپور حمایت کا عہد

مظفر آباد (بیورو رپورٹ) اوورسیز پاکستانیز فاﺅنڈیشن کے زیراہتمام آزاد جموں و کشمیر میں منعقد ہونے والا پہلا اوورسیز کنونشن تاریخی اہمیت اختیار کر گیا جس میں دنیا بھر سے کشمیری و پاکستانی تارکین وطن نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر اوورسیز کمیونٹی نے پاکستان ، آزاد کشمیر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ملکی معیشت میں سرمایہ کاری ، مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر اجاگر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔کنونشن میں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام، صدر آزاد کشمیر لطیف اکبر چوہدری، وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور اور چیئرمین اوورسیز کمیشن سید قمر رضا سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ کنونشن میں برطانیہ، امریکہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب و دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے اوورسیز کشمیریوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اوورسیز پاکستانی اور امریکن سٹیٹ گیسٹ خواجہ فاروق نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے سرمایہ کاری کو تیار ہیں، حکومت پاکستان ، آزاد کشمیر کی رہنمائی میں اوورسیز کمیونٹی مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کرتی رہے گی۔ خواجہ فاروق نے وزیراعظم شہبازشریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی موجودہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر فورم پرحمایت جاری رکھیں گے۔اس موقع پر خواجہ فاروق نے سید قمر رضا کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسلام آباد میں منعقدہ پہلے اوورسیز کنونشن کا روح رواں قرار دیا اور کہا ان کوششوں کے باعث مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر ، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا موقف بھرپور طریقے سے پیش کیا گیا۔ اپنی تقریر میں خواجہ فاروق نے آزاد کشمیر کی سابق حکومتوں پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر لبریشن فنڈ کے وسائل شفاف طریقے سے استعمال نہیں کئے گئے۔ سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو نے بھی اپنے دور میں لبریشن فنڈ سے متعلق سوالات اٹھائے تھے تاہم سیاسی دباو کے باعث کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔ شرکا نے تالیوں سے اظہار تائید اور کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے خطاب میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے خصوصی سیلز کے قیام کا اعلان کیا اور کہا کہ 90 روز کے اندر اندر معاملات پر فیصلے کئے جائیں گے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے سرمایہ کاری پر ٹیکس چھوٹ، جائیداد کے حقوق کے تحفظ و کاروباری سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان و دیگر اعلیٰ سرکاری افسران بھی تقریب میں موجود تھے۔ حکومتی نمائندگان نے یقین دلایا اوورسیز کمیونٹی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل ، آزاد کشمیر میں سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جائیگا۔ کنونشن کے اختتام پر اوورسیز شرکا نے پاکستان ، آزاد کشمیر کی معیشت کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور مسئلہ کشمیر کے پرامن، سفارتی و سیاسی حل کیلئے اپنی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔