اسلام آباد:(بیورورپورٹ)مستقل نوعیت کے کام کیلئے کنٹریکٹ پر تعیناتیاں غیرآئینی ،آئینی عدالت نے بڑاحکم جاری کردیا۔
فیصلے کے مطابق مستقل نوعیت کے کام کیلئے کنٹریکٹ پر تعیناتیاں غیرآئینی تصور ہوں گی، ملازمین کی مستقلی کی بنیاد برابری کا اصول اور بنیادی آئینی حقوق ہیں،عدالت نے سابق فاٹا کے ڈسپنسرز کو مستقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے 4صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔
فیصلے کے مطابق ملازمین کا کیس وفاقی کابینہ کے 29اگست 2008 کے دائرے میں آتا ہے،مستقل کرنے کی بجائے ملازمین کو 2010 میں غیرقانونی طور پر برطرف کیا گیا، محض ملازمت کا کیس نہیں بلکہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے،مستقل آسامیوں کے عوض کنٹریکٹ بھرتیاں قانونی طور پر درست نہیں، آئین کی منشا ہے تمام شہریوں کےساتھ برابری کا سلوک کیا جائے۔
مستقل نوعیت کے کام کیلئے کنٹریکٹ پر تعیناتیاں غیرآئینی ہیں،آئینی عدالت



















