مصنوعی مہنگائی کا جن بے قابو،گرانفروشوں، ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائیوں کے دعوے بیکار

لاہور (خبرنگار) صوبائی دارالحکومت لاہور میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیوں اور لاکھوں روپے جرمانوں کے دعوے تو تواتر کے ساتھ کیے جا رہے ہیں، لیکن اوپن مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی کا جن تاحال بے قابو ہے اور عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں مل سکا۔ ضلعی انتظامیہ کے اپنے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران شہر بھر میں 1 لاکھ 24 ہزار 80 انسپکشنز کی گئیں، جن کے دوران 2019 خلاف ورزیوں پر ایکشن لیتے ہوئے گراں فروشوں پر 58 لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے۔ سنگین خلاف ورزیوں پر 108 افراد کے خلاف استغاثہ جمع کروایا گیا جبکہ وارننگز کے باوجود باز نہ آنے پر 66 تجارتی مراکز اور دکانوں کو سیل بھی کیا گیا تاہم ان بھاری بھرکم اعداد و شمار اور جرمانوں کے باوجود شہر کی دکانوں، بازاروں اور گلی محلوں میں سرکاری ریٹ لسٹیں غائب ہیں اور دکاندار من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے مارکیٹ ڈیٹا اور زرعی سپلائی چین کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ منڈیوں میں سپلائی چین تسلی بخش ہے اور صرف آلو کے 54، پیاز کے 39 اور ٹماٹر کے 36 ٹرکوں کی سپلائی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مگر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر منڈیوں میں سپلائی اتنی ہی وافر ہے تو پھر یہ اشیاءاوپن مارکیٹ میں پہنچتے ہی دگنی قیمت پر کیوں فروخت ہو رہی ہیں؟ انتظامیہ کا سپلائی چین کی مانیٹرنگ کا دعویٰ منڈی کی حد تک تو درست ہو سکتا ہے، لیکن خوردہ سطح پر اس مانیٹرنگ کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری جانب ڈی سی لاہور کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو فیلڈ میں متحرک رہنے، دکانوں پر ریٹ لسٹیں نمایاں جگہوں پر آویزاں کروانے اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے ذخیرہ اندوزوں کو فوری گرفتار کرنے کے سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ گراں فروشی کی شکایات کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔ لیکن صارفین کا کہنا ہے کہ پرائس مجسٹریٹس کی کارروائیاں صرف فوٹو سیشنز اور چھوٹے ریڑھی بانوں یا دکانداروں تک محدود ہیں، جبکہ منڈیوں کے بڑے آڑھتی، ہول سیلرز اور اصل ذخیرہ اندوز اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ کاغذی گورکھ دھندے اور بیانات سے باہر نکل کر ہول سیل لیول پر سخت ایکشن لے تاکہ عوام کو مہنگائی کے اس عذاب سے حقیقی معنوں میں نجات مل سکے۔