لاہور (میاں ساجد) لاہور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے ”صاف، سرسبز اور پائیدار پنجاب“ کے ویژن کے تحت محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے سنگل یوز پلاسٹک کے خلاف صوبہ بھر میں جاری خصوصی مہم مزید تیز کر دی ہے۔ مہم کا مقصد ماحولیاتی آلودگی میں کمی، شہریوں کو صحت مند ماحول کی فراہمی اور پنجاب میں سنگل یوز پلاسٹک پر عائد پابندی پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔محکمہ تحفظ ماحول پنجاب کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے دوران صوبہ بھر میں 5 ہزار 418 انسپکشنز کی گئیں جبکہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد اور کاروباری اداروں کو مجموعی طور پر 7 لاکھ 70 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ کارروائیوں کے دوران 3 ہزار 802 کلوگرام سنگل یوز پلاسٹک قبضے میں لے کر ضبط کیا گیا۔محکمہ نے آگاہی مہم کو بھی خصوصی اہمیت دیتے ہوئے 2 ہزار 227 پلاسٹک پلیجز آویزاں کیے تاکہ تاجروں اور شہریوں میں ماحول دوست متبادل اشیاءکے استعمال اور قانونی پابندیوں سے متعلق شعور اجاگر کیا جا سکے۔ سنگین خلاف ورزیوں پر 5 مقدمات (ایف آئی آرز) درج کیے گئے، جبکہ بار بار قانون کی خلاف ورزی کرنے والے 258 کاروباری مراکز کو سیل کر دیا گیا۔ترجمان محکمہ ماحولیات نے روزنامہ مشرق سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پلاسٹک آلودگی نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت، زرعی زمین، آبی ذخائر اور جنگلی حیات کیلئے بھی سنگین خطرہ ہے، اسلئے قانون پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ڈی جی نے مزید کہا کہ محکمہ کی اولین ترجیح صرف قانونی کارروائی نہیں بلکہ عوامی آگاہی اور کاروباری برادری کو ماحول دوست متبادل مصنوعات کی جانب راغب کرنا بھی ہے۔ انہوں نے تاجروں، صنعتکاروں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ حکومتی قوانین کی مکمل پابندی کریں اور کپڑے، کاغذ اور دیگر ماحول دوست بیگز کے استعمال کو فروغ دیں تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ اور صاف ماحول فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ صوبہ بھر میں انسپکشنز، مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ کا عمل مسلسل جاری رہے گا، جبکہ سنگل یوز پلاسٹک کی تیاری، فروخت، ذخیرہ اندوزی یا استعمال میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ قانون پر عملدرآمد میں تعاون کریں، خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں اور "صاف اور سرسبز پنجاب" کے خواب کو حقیقت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جبکہ پنجاب حکومت نے سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ شکنی اور ماحول دوست متبادل کو فروغ دینے کیلئے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبہ بھر کی تمام دکانوں، ریٹیل سینٹرز، ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور دیگر تجارتی اداروں کو پلاسٹک شاپنگ بیگز کی فراہمی پر صارفین سے کسی بھی قسم کی رقم وصول کرنے سے روک دیا ہے۔پنجاب ماحولیاتی تحفظ (سنگل یوز پلاسٹک مصنوعات کی پیداوار اور استعمال) ریگولیشنز 2023 کے تحت ماحول کے تحفظ، بحالی اور بہتری کیلئے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں پلاسٹک آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔حکم نامے کے مطابق پنجاب کی پلاسٹک مینجمنٹ اسٹریٹجی پائیدار پیداوار اور ذمہ دارانہ استعمال کے فروغ، دوبارہ قابل استعمال اور قابل تجدید متبادل اشیائ کی حوصلہ افزائی اور پلاسٹک ویسٹ مینجمنٹ کے مو¿ثر نظام کو یقینی بنانے پر مبنی ہے۔ اسی مقصد کے تحت ریگولیشنز میں پروڈیوسرز، ڈسٹری بیوٹرز، صارفین، کلیکٹرز اور ری سائیکلرز کی ذمہ داریاں بھی واضح کی گئی ہیں۔حکم نامے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ متعدد دکاندار اور تجارتی مراکز مصنوعات کی فروخت کے دوران پلاسٹک شاپنگ بیگز کے نام پر صارفین سے اضافی رقم وصول کر رہے ہیں، جس کے باعث نہ صرف پلاسٹک بیگز کی پیداوار میں اضافہ ہوا بلکہ ماحول دوست، دوبارہ قابل استعمال اور غیر پلاسٹک متبادل بیگز کی حوصلہ شکنی بھی ہوئی۔ ترجمان محکمہ ماحولیات پنجاب نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل ماحولیاتی تحفظ ایجنسی پنجاب نے اپنے احکامات میں واضح کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی دکان، ریٹیل سینٹر، ریسٹورنٹ، ہوٹل یا دیگر تجارتی ادارے کو پلاسٹک شاپنگ بیگ فراہم کرنے کے عوض صارفین سے کوئی فیس یا قیمت وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم کپڑے، کاغذ، جوٹ یا دیگر غیر پلاسٹک مواد سے تیار کردہ دوبارہ قابل استعمال یا قابل تجدید شاپنگ بیگز کی قیمت وصول کی جا سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے کی خلا ف ورزی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کاروائی بھی کی جائے گی اور انہں جرمانے بھی کیے جائیں گے۔ یہ حکم 6 ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوگا اور آئندہ احکامات تک مو¿ثر رہے گا۔
پنجاب بھر میں سنگل یوز پلاسٹک کیخلاف خصوصی مہم میں تیزی



















