مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی،اہم اہداف میں ناکامی، قومی اقتصادی سروے

اسلام آباد: (بیورورپورٹ)مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی،معیشت کا حجم 452 ارب 10 کروڑ ڈالرز ہو گیا،وزیر خزانہ اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے پیش کردیا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا رواں مالی سال کے پہلے ماہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا، مون سون بارشوں کی وجہ سے معیشت متاثر ،امریکہ کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی،حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، معاشی ترقی کی شرح نمو 3.7فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4فیصد سے زائد رہے،نجی شعبے کے قرضوں میں جولائی تا مارچ 934 ارب کا اضافہ دیکھا گیا۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہا معیشت کا حجم 452ارب ڈالرز سے اوپر چلا گیا، سیمنٹ سیکٹر میں10فیصد ،فرٹیلائزر سیکٹر کی گروتھ 17فیصد رہی، فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالرز سے بڑھ کر 1901ڈالرز ہو گئی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4فیصد سے اوپر جاتی، متعدد محکموں کو بند کرنے کےلئے رائٹ سائزنگ ،سرکاری اداروں کی نجکاری پر کام تیز،اصلاحات کیلئے وقت درکار ہے،صحت اخراجات میں کمی، خواندگی بہتر،2025 میں7 لاکھ سے زائد پاکستانی روزگار کیلئے بیرون ملک گئے،پٹرولیم مصنوعات کی کھپت ایک کروڑ 36 لاکھ میٹرک ٹن رہی۔

وزیر خزانہ نے کہاجولائی تا مارچ کرنٹ اکاﺅ نٹ 72ملین ڈالرز مثبت رہا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصد رہی،ڈیری و لائیو سٹاک کا زرعی معیشت میں 60فیصد حصہ ، برآمدات میں کمی کی وجہ چاول ،چینی کی برآمدات میں ڈیڑھ ارب ڈالرز کمی ہے، فوڈ و ٹیکسٹائل سمیت 16شعبوں میں مثبت رجحان رہا،فری لانسرز کی برآمدات 90کروڑ ڈالرز تک پہنچ گئیں، زرمبادلہ ذخائر جون کے آخر تک 18ارب ڈالرز ہو جائیں گے، مینوفیکچرنگ کے 22شعبوں میں سے 16میں بہتری آئی ، اشیا کی طلب میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا، ڈیجیٹل معیشت کا بڑا اہم کردار ہے۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہا خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4.9رہی، مالیاتی خسارہ 0.7فیصد اور پرائمری بیلنس سر پلس ہے، مہنگائی 38فیصد سے کم ہوئی، مالیاتی سائیڈ پر پاکستان سر پلس رہا اور بہتری دکھائی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ،روشن ڈیجیٹل اکاونٹ میں جمع رقم نے 12.7 ارب ڈالر کی تاریخی سطح کو چھو لیا،گدھوں کی تعداد میں 2 لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے کہا آئی ایم ایف پروگرام صرف حکومت نہیں ،پورے ملک کے مفاد میں ہے، خیبرپختونخوا حکومت نے بھی معاشی اہداف کے حصول میں تعاون کی یقین دہانی کرادی،حکومت معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے، برآمدات کے فروغ اور عوامی خوشحالی کےلئے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔