پنجاب میں کسانوں کی مالی معاونت کیلئے سبسڈی سکیموں سے لاکھوں کاشتکار مستفید

لاہور (نعیم جاوید) پنجاب میں کسانوں کی مالی معاونت کیلئے متعدد سبسڈی سکیمیں جاری، زرعی ترقی کیلئے 60 ارب روپے مختص، لاکھوں کاشتکار مستفید ہونے لگے۔ حکومت پنجاب نے مالی سال 2026-27ءمیں زرعی شعبے کی ترقی، پیداواری لاگت میں کمی اور کسانوں کی مالی معاونت کیلئے 60 ارب روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکیج مختص کیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں متعدد سبسڈی سکیموں پر عمل درآمد جاری ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق ان سکیموں کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکاروں کو مالی سہولت فراہم کرنا، جدید زرعی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے ”مشرق“ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت چیف منسٹر کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر پروگرام، ہائی پاور گرین ٹریکٹر سکیم، زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن، ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم، جدید زرعی مشینری پر سبسڈی، معیاری بیجوں کی فراہمی، کپاس اور چاول کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت کے مختلف پروگرام جاری ہیں۔ ان منصوبوں کے ذریعے کسانوں کو براہ راست مالی معاونت، زرعی مداخل پر سبسڈی اور جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیںترجمان کے مطابق 60 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام میں 27 ارب 58 کروڑ روپے جاری ترقیاتی منصوبوں جبکہ 32 ارب 41 کروڑ روپے نئے منصوبوں کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ چیف منسٹر کسان کارڈ پروگرام کے دوسرے مرحلے میں 10 لاکھ کسانوں کو آسان شرائط پر مالی سہولت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ گرین ٹریکٹر پروگرام کے تحت 9 ہزار 500 جدید ٹریکٹر سبسڈی پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح 8 ہزار زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ بھی تیزی سے جاری ہے تاکہ کسانوں کے بجلی اور ڈیزل کے اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکے محکمہ زراعت کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام سبسڈی سکیموں کے تحت فنڈز کی فراہمی شفاف ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ مستحق کسانوں کی درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد مرحلہ وار مالی معاونت جاری کی جا رہی ہے اور مختلف پروگراموں کے تحت ہزاروں کسان مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ مزید درخواستوں کی جانچ کا عمل بھی جاری ہے۔ حکام کے مطابق ہر سکیم کے فنڈز اور مستفید ہونے والے کسانوں کی تفصیلات الگ الگ مرتب کی جا رہی ہیں، اس لئے مجموعی اعداد و شمار مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان سکیموں پر مو¿ثر انداز میں عمل درآمد جاری رکھتی ہے تو زرعی پیداوار میں اضافہ، پانی کے بہتر استعمال، جدید مشینری کے فروغ اور پیداواری لاگت میں کمی کے ذریعے کسانوں کی آمدن میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھی جدید آبپاشی نظام اور سولر ٹیوب ویل جیسے منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیںدوسری جانب کسان تنظیموں نے حکومت کے ان اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سبسڈی پروگراموں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ چھوٹے کاشتکار مستفید ہو سکیں۔ کسان رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث کسان شدید مالی دباو¿ کا شکار ہیں، اس لئے زرعی مداخل پر مزید سبسڈی، آسان قرضوں کی فراہمی اور فصلوں کی بہتر قیمت کو بھی حکومتی پالیسی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق حکومت کسانوں کی فلاح کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور تمام ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی باقاعدگی سے کی جا رہی ہے تاکہ مختص فنڈز شفاف انداز میں صرف ہوں اور ان کے ثمرات صوبے کے ہر مستحق کاشتکار تک پہنچ سکیں۔